1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نشے میں ڈرائیونگ ، جارج مائیکل کو سزا ئے قید

لندن کی ایک عدالت نے معروف گلوکار جارج مائیکل کو نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے کے جرم میں آٹھ ہفتے کی سزائے قید سنائی ہے۔ وہ اب پانچ سال کے لئے ڈرائیونگ بھی نہیں کر سکیں گے۔

default

منگل کو لندن کی ایک عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جارج مائیکل نے نشہ کی لت سے چھٹکارہ پانے کے لئے کوئی مناسب اقدامات نہیں اٹھائے ہیں اوراس مرتبہ انہوں نے لوگوں کی جان خطرے میں ڈالی۔

قید کی سزا سناتے ہوئے جج نے47 سالہ مائیکل پر پانچ سال تک ڈرائیونگ پر پابندی بھی عائد کی اور انہیں بارہ سو پچاس پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کے لئے بھی کہا۔ نشے میں دھت برطانوی سٹار جارج مائیکل نے چار جولائی کو اپنی گاڑی شمالی لندن میں اپنے گھر کے نزدیک واقع ایک سٹورسے ٹکڑا دی تھی، جس کے بعد سے ان پر مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔ گرفتاری کے بعد ان سے نشہ آورسگریٹ برآمد ہوئے تھے اور خون کے ٹیسٹ کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ وہ ڈرائیونگ کے وقت حالت نشہ میں تھے۔

عدالت کے باہر مائیکل کے وکیل مُکل چاؤلہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس ایکسیڈنٹ کے بعد مائیکل کو احساس ہوا کی نشہ کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حادثے نے مائیکل کی زندگی بدل دی ہے اور اب وہ معمول کی زندگی کی طرف آنے کے لئے تیار ہیں۔ چاؤلہ نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے نشہ کی عادت سے چھٹکارہ پانے کے لئے بحالی سینٹر بھی جانا شروع کردیا ہے۔

George Michael

جارج مائیکل کا پرانا ریکارڈ دیکھتے ہوئے انہیں سزا سنائی گئی ہے

مکل چاؤلہ نے بتایا کہ اب انہوں نے گانے لکھنا دوبارہ شروع کر دئے ہیں،’’ ایک لمبے عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ گیت لکھنا شروع کئے ہیں، نشے کی وجہ سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں معدوم ہو گئی تھیں لیکن اب وہ دوبارہ نکھرنے لگی ہیں۔‘‘

جارج مائیکل اس سے قبل سن2007ء میں بھی نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے مرتکب پائے گئے تھے، جس کے نتیجے ان کا ڈرائیونگ لائسنس دو سال کے لئے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سن 2008ء میں بھی انہوں نے اپنے مداحوں سے معافی مانگنے کے بعد کہا تھا کہ وہ اب معمول کی زندگی کی طرف واپس آئیں گے۔

خیال رہے کہ گریمی ایوارڈ یافتہ گلو کار جارج مائیکل کے کوئی سو ملین البم فروخت ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق