1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نسوانی ختنہ، ایک نو عمر لڑکی ہلاک

مغربی افریقہ کی ریاست سرے لیون میں ایک نو عمر لڑکی ختنے کے آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئی ہے۔ سرے لیون میں یہ آپریشن خواتین کی ایک خفیہ سوسائٹی کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔

Äthiopien Kampagne gegen weibliche Genitalverstümmelung

ایک اندازے کے مطابق نسوانی ختنے سے دنیا بھر میں ایک سو چالیس ملین لڑکیاں متاثر ہوتی ہیں

انیس سالہ فطماتا تورے اس ہفتے کے آغاز میں ختنے کی سرجری کے دوران ہلاک ہوئی تھی۔نسوانی ختنوں کے خلاف سر گرم کارکنوں کے مطابق یہ سرجری ایک خاتون کر رہی تھی۔ ان میں سے کئی ایک کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرے لیون کی رسم و رواج کے مطابق لڑکیوں کا ختنہ وہاں پائی جانے والی خواتین کی بہت مضبوط لیکن خفیہ تنظیم ’بوندو‘ کے زیر نگرانی کیا جاتا ہے اور یہ اس لڑکی کا’ بوندو ‘ تنظیم میں داخلے کا سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے۔ یہ تنظیم سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتی ہے۔ تورے کی ہلاکت کے تناظر میں بوندو سوسائٹی کی تین رکن خواتین اور ختنہ کرنے والی نرس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ’فارورڈ ‘ اور ایکوئیلیٹی ‘ سمیت نسوانی ختنوں کے خلاف مہم چلانے والی کئی ایک تنظیموں نے سرے لیون حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تورے کی موت کی مکمل چھان بین کی جائے اور معاشرے میں رائج اس رسم پر پابندی لگائی جائے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق نسوانی ختنوں کے حوالے سے سرے لیون عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔

Genitalverstümmelung Messer

نسوانی ختنوں کے خلاف سر گرم کارکنوں کے مطابق یہ سرجری ایک خاتون کر رہی تھی

یہاں ہر دس خواتین میں سے نو اس تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہیں۔ نسوانی ختنوں کے خلاف سرگرم تنظیم ’فارورڈ‘ کی خاتون رکن اڈووا کواتینگ کا کہنا تھا،’’ یہ تو صرف ایک ہلاکت ہے۔ خواتین کے اس طرز کے آپریشنز اب تک جانے کتنی زندگیوں کے چراغ گل کر چکے ہیں۔‘‘ کواتینگ نے مزید کہا کہ ختنے کی سرجری کے دوران بے شمار دیہاتی لڑکیاں اپنی جان گنوا چکی ہیں جنہیں خاموشی سے دفنا دیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق نسوانی ختنے سے دنیا بھر میں ایک سو چالیس ملین لڑکیاں متاثر ہوتی ہیں۔ سرے لیون مغربی افریقہ کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں نسوانی ختنے، خواتین پر تشدد، کم سنی میں جبری شادی اور خواتین کی عدم معاشی خود مختاری جیسے مسائل سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں۔

DW.COM