1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نسل پرستی کے خلاف کانفرنس

اسرائیل، امریکہ، ہالینڈ اورآسٹریلیا کے بعد اب جرمنی نے بھی کانفرنس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔

default

اسرائیل کی یکطرفہ مخالفت کے خدشے اورایران کے صدرمحمود احمدی نژاد کی شرکت کی وجہ سے بہت سے مغربی ممالک نے نسل پرستی کے خلاف ہونے والی کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سوئٹزرلینڈ کے شہرجنیوا میں آج سے شروع ہونے والی اس کانفرنس میں اسرائیل، امریکہ، ہالینڈ اورآسٹریلیا کے بعد اب جرمنی نے بھی شرکت کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

Iran Großbritannien Streit um Fernsehansprache von Ahmadinedschad

ایرانی صدر احمدی نژاد

جرمن وزیر خارجہ فرنک والٹرشٹائن مائرنے کہا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ جرمن حکومت کا خیال ہے کہ گذشتہ کانفرنس کی طرح اس مرتبہ بھی اس پلیٹ فارم کو دوسروں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ قابل قبول نہیں ہے۔ جرمن اورکئی دوسرے یورپی ممالک کی حکومتوں کو خدشہ ہے کہ کانفرنس میں شریک اسلامی ممالک اس موقع کواسرائیل کے خلاف پروپگینڈے کے طور بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جرمنی نے اقوام متحدہ کی کسی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ساتھ ہی جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر نے کانفرنس میں شرکت تمام ممالک کے اپیل کی وہ نسل پرستی اور تعصب کے خاتمے کے حوالے سے مثبت کوششیں کریں اور کانفرنس کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔

بائیکاٹ کی سب سے بڑی وجہ کانفرنس کے اختتامی اعلامیے کا مجوزہ مسودہ ہے۔ اس مسودے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں اسرائیل پر یکطرفہ تنقید کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنرناوانیتھم پللے نے امریکہ اور دیگرمغربی ممالک کی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پرافسوس کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کےاعتراضات کے بعد اختتامی اعلامیے کے مسودے میں مشرقی وسطی سمیت تمام متنازعہ نکات نکال دیئے گئے تھے۔

Rassismus Konferenz in Genf

جنیوا میں کانفرنس کے موقع پر ایک فلسطینی خاتون


ایرانی صدرمحمود احمد نژاد کانفرنس میں شرکت کے لئے جنیوا پہنچ چکے ہیں۔ جنیوا روانگی سے قبل ایک ایرانی ٹیلیوژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نسل پرستی کا چیمپئن قرار دیا۔ جبکہ اسرائیلی وزرات خارجہ نے ایرانی صدرکی شرکت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شخص کی کانفرنس میں شرکت جو ہولوکاسٹ کا انکاری ہو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ امریکہ اوراسرائیل نے 2001 میں بھی جنوبی افریقہ میں ڈربن میں ہونے والی کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ اس مرتبہ اختتامی مسودے میں صیہونیت کو نسل پرستی سے جوڑا گیا تھا۔

جنیوا میں ہونے والی اس کانفرنس کو آخری لمحات کی کانفرنس بھی کہا جا رہا ہے کیونکہ ابھی تک یہ واضع نہیں ہو سکا ہے کہ کتنے ممالک اس میں شرکت کریں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو امید ہے کہ کانفرنس میں شرکاء کا ایک ایسے لائحہ عمل پراتفاق ہو جائے گا کہ جس کی مدد سے دنیا بھرمیں نسل پرستی کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جنیوا میں ہونے والی اس کانفرنس میں یہ جائزہ بھی لیا جانا چاہیے کہ آیا آٹھ سال قبل ہونے والے اجلاس کے بعد نسل پرستی، تعصب اورغیرملکیوں کے خلاف نفرت کے خاتمے کی جنگ میں کس حد تک کامیابی ہوئی ہے۔