1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نسل پرستی کے خلاف کانفرنس بائیکاٹ کے سائے میں

نسل پرستی کے خلاف اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک کانفرنس پیرکوسوئٹزر لینڈ کے شہرجنیوا میں شروع ہوئی تاہم جرمنی سمیت کئی مغربی ملکوں کی طرف سے بائیکاٹ کے نتیجے میں اس کانفرنس نے ایک نئی بحث اور کئی نئے تنازعات کوجنم دیا ہے۔

default

جینوا میں نسل پرستی کے خلاف عالمی کانفرنس نے نئے تنازعات کو جنم دیا

اسرائیل نے جنیوا کانفرنس میں مہمان کے طور پر ایرانی صدر محمود احمدی نژادکی شرکت پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفیر کو سویٹزرلینڈ سے واپس بلالیا ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ محمود احمدی نژاد ’’خود ایک نسل پرست ہیں اور اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے اور نازی دور میں یہودیوں کے قتل عام کی نفی کرنے جیسے سخت گیر بیانات دے چکے ہیں۔‘‘

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا کہ ان کے ملک کو کانفرنس میں احمدی نژاد جیسی ’’متنازعہ‘‘ شخصیت کی شرکت پر شدید اعتراض ہے۔

’’جب نسل پرستی کے خلاف عالمی کانفرنس میں محمود احمدی نژاد مہمان ہوں تو آپ ہمارے احتجاج اور بائیکاٹ کو سمجھ سکتے ہیں۔‘‘

Israel Verteidigungsminister Ehud Barak Regierungskrise

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے مطابق ایرانی صدر کی اس کانفرنس میں شمولیت اسرائیل کے بائیکاٹ کی وجہ بنی

امریکہ، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور اسرائیل سمیت چند دیگر ممالک نےنسل پرستی پر جنیوا میں ہونے والی اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ان ملکوں نےکانفرنس کے مسودہء قرارداد پر شدید اعتراضات ظاہر کئے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے ڈرافٹ سے مذہب سے متعلق آزادیء رائے کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس سے اسرائیل کے تنہا ہونے کے بھی خدشات ہیں۔

اگرچہ فرانس نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ نہیں کیا تاہم خبردار ضرورکیا تھا کہ اگر احمدی نژاد یہودی مخالف کوئی بیان دیتے ہیں تو اس صورت میں وہ بھی اس کا بائیکاٹ کرے گا۔

Ban Ki Moon eröffnet Antirassismus Konferenz in Genf

اقوام متحدہ نے اس کانفرس کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے طرز عمل کو غیر مناسب قرار دیا ہے

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کانفرنس کے شروع ہوتے ہی اپنے ایک بیان میں اس بات پر سخت افسوس ظاہر کیا کہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد سے متعلق جن ملکوں کی اس کانفرنس میں شرکت اہم تھی، انہوں نے ہی اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

’’ایسے ملک، جنہیں بہتر مستقبل کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تھا، وہ یہاں نہیں ہیں۔ ان سب کو یہاں ہونا چاہیے تھا۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود ان ممالک کو اس کانفرنس میں شرکت کرکے بات چیت کرنا چاہیے تھی۔‘‘

بان کی مون نے تاہم اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں یہ سلسلہ جاری نہیں رہے گا۔

بان کی مون اور اقوام متحدہ کی کمیشنربرائے انسانی حقوق این پیلائے نے خبردار کیا کہ موجودہ اقتصادی اورمعاشی بحران نسل پرستی کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔ دونوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان مشکل حالات میں سمجھ بوجھ سے کام لے۔

نوبل انعام یافتہ نیلسن منڈیلا نے ایلچی کے ذریعے کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ نسل پرستی کے خلاف لڑائی میں سیاسی اختلافات رکاوٹ نہیں بننے چاہییں۔

Mahmoud Ahmadinejad Antirassismus Konferenz in Genf

احمدی نژاد کانفرنس میں شرکت کے لئے آتے ہوئے

اگرچہ کانفرنس کے مسودہء قرارداد میں کئی متنازعہ سیکشنز نکالے بھی گئے تھے تاہم امریکہ، جرمنی اوربائیکاٹ کرنے والے دیگرممالک نئے ڈرافٹ سے بھی مطمئن نظرنہیں آئے۔ ان ملکوں کی رائے میں ابھی بھی ڈرافٹ کئی لحاظ سے ’مبہم‘ ہے۔

کانفرنس کے میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کے صدرہانس روڈولف میرٹس اورایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے مابین اتوارکی ملاقات نے بھی کئی حلقوں کو ناراض کردیا ہے۔

سوئس خبر رساں ادارے ATS کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے صدر نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات پرجاری تنقید کو غیرمناسب طرزعمل قراردیا ہے۔

’’میں تنقید کرنے والوں کو سمجھ سکتا ہوں مگران کا طرزعمل نہ صرف غیرمناسب بلکہ غیرمنصفانہ بھی ہے۔‘‘

سوئٹزرلینڈ کے صدرکے ساتھ احمدی نژاد کی یہ ملاقات ایرانی صدرکی کسی بھی یورپی رہنما کے ساتھ پہلی رسمی ملاقات تھی۔