1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نسل پرستی کے خلاف عالمی کانفرنس، کئی ممالک کی عدم شرکت

امریکہ، کینیڈا اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پیر 20اپریل سے جنیوا میں شروع ہونے والی نسل پرستی کے خلاف عالمی کانفرنس ڈربن دوم 2009 کی قراردادوں کے مجوزہ مسودے میں تبدیلی تک اس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے

default

جنیوا کانفرنس کے حق میں ایک مظاہرے میں اٹھایا گیا پوسٹر

اس سال کانفرنس میں 2001 کی ڈربن کانفرنس میں منظور کئے گئے اعلامیے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔کانفرنس کا عنوان ہے: نسل پرستی، نسلی امتیاز اورنسلی عدم رواداری ۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کانفرنس میں ایرانی وفد کی قیادت صدر احمدی نژاد کریں گے۔

ڈربن میں تقریبا آٹھ سال قبل ہونے والی اس کانفرنس میں عرب ممالک نے صیہونیت کو نسل پرستی کے مماثل قرار دینے سے متعلق ایک قراردادمنظورکرانے کی کوشش کی تھی جس پر امریکہ اور اسرائیل نے اس اجتماع کے چوتھے روزاس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

Anti Rassismus Konferenz 2001 in Durban Demonstration

ڈربن کانفرنس کے موقع پر ہزاروں افراد نے نسل پرستی کے خلاف مظاہرے کئے تھے

اس بار امریکہ کے ایک وفد نے 16 فروری کو جنیوا میں کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت میں حصہ لیا تھا اورکانفرنس میں منظور کی جانے والی مجوزہ قرارداد میں تبدیلیاں تجویز کی تھیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ وہ اسی صورت میں اس کانفرنس میں شرکت کرے گا جب اس کانفرنس کے اعلامیے کو تبدیل کیا جائےگا۔کینیڈا اوراسرائیل پہلے ہی اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک بھی اس کانفرنس کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جس کے بعد اس کانفرنس میں کئی یورپی ممالک کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔

وفاقی جرمن وزارت خارجہ کے انسانی حقوق سے متعلق مندوب اعلیٰ Guenter Nooke نے برلن سے جاری ہونے والےاپنے ایک بیان میں کہا ہے :’’ قومی امکانات ہیں کہ جرمنی بھی دوسرے یورپی ممالک کی طرح اس کانفرنس میں شرکت نہ کرے۔‘‘

اگر ایسا ہوتا ہے تو نسلی منافرت کے خلاف منعقدہ اس عالمی کانفرنس میں ایرانی صدر کے علاوہ کوئی قابل ذکر اور اہم عالمی رہنما شریک نہیں ہو گا۔

رپورٹ :عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک