1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نسل پرستانہ ٹوئیٹس پر مِس یونیورس آرگنائزیشن تنقید کی زد میں

امریکا میں مِس یونیورس کا ادارہ موجودہ مِس ٹین امریکا کی سابقہ نسل پرستانہ ٹوئیٹس کی وجہ سے ایک بار پھر زیر عتاب آ گیا ہے۔ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے بھی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا۔

نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب ہفتے کے روز ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سالہ کیرلی ہے کو مِس ٹین یو ایس اے کا تاج پہنایا گیا اور اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے کیرلی کا ایک سابقہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ ڈھونڈ نکالا جس میں انہوں نے سن دو ہزار تیرہ سے چودہ کے درمیان نسل پرستانہ زبان استعمال کی تھی۔

ادارے کو فوراً ہی اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنا پڑ گئے۔

گزشتہ برس بھی مِس یونیورس آرگنائزیشن کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت ادارے کے مالک اور ری پبلکن پارٹی کے موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکن افراد کے خلاف چند بیانات دیے تھے۔

ادارے نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’جو زبان کیرلی نے ٹوئیٹس میں استعال کی ہے وہ کسی بھی طور پر ہمارے ادارے کی اقدار کی عکاسی نہیں کرتی۔‘‘

تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ ماضی میں جس وقت کیرلی نے یہ ٹوئیٹس کی تھیں وہ اس وقت زندگی کے کسی اور ہی دور میں تھیں۔ ’’کیرلی نے اس کے بعد بہت سے سبق سیکھے ہیں اور جدوجہد کی ہے جس نے ان کو تبدیل کیا ہے اور نئی اقدار سکھائی ہیں۔ ہم ایک ادارے کے طور پر پوری کوشش کریں گے کہ ان کا یہ ارتقاء جاری رہے۔‘‘

ادارے نے کیرلی کی طرف سے ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر جاری کی گئی ایک معافی کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں اپنے کیے پر ندامت ہے۔

Miss Venezuela Gabriela Isler wird Miss Universe 2013

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹرمپ مِس یونیورس ادارے سے بھی وابستہ رہے تھے

اس کے باوجود بہت سے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ مِس یونیورس آرگنائزیشن نے کیرلی کو منتخب کر کے ایک غلط فیصلہ کیا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کیرلی سے ان کا تاج واپس لے لیا جانا چاہیے۔

ٹرمپ کے ادارے سے علیحدہ ہونے کے بعد نئے مالکان نے مِس ٹین امریکا کے فارمیٹ میں بعض تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے سوئم سوٹ مقابلے کو ختم کر کے اس کی جگہ ایتھلیٹک لباس کے مقابلے کی ابتداء کی ہے۔ اس اقدام کی تعریف بھی ہوئی ہے اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس سے لڑکیوں کی ذہنی اور جسمانی طاقت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے نہ کہ ان کی جنسیات کو ابھارا گیا ہے۔