’نریندر مودی فلسطین کا دورہ کریں گے‘ | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نریندر مودی فلسطین کا دورہ کریں گے‘

امریکا کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد دنیا بھر میں احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران بھارت میں فلسطینی سفیر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی فلسطین کا دورہ کریں گے۔

بھارت میں فلسطین کے سفیر عدنان ابوالہیجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ فیصلے کے بعد بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے ٹی وی چینل پر ایک مباحثے کے دوران یہ اعلان کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جلد ہی فلسطین کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا،’’میں یہاں یہ اعلان کرتا ہوں اور آپ سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھاکہ مسٹر مودی فلسطین کے دورے پر جانے والے ہیں۔‘‘ انہوں نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ وزیر اعظم کا یہ دورہ کب ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ فلسطین کے کاز کا حامی رہا ہے۔
تاہم بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’ہمیں وزیر اعظم کے کسی دورے کے منصوبے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے اور فلسطینی سفیر کے بیان پر ہماری طرف سے کوئی تبصرہ کرنا فی الوقت مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سال جولائی میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ وہ اسرائیل جانے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم تھے۔ تاہم وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے بھارتی رہنماوں کے برعکس فلسطین نہیں گئے تھے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نتین یاہو اگلے ماہ بھارت آنے والے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم مودی کا دورہ اسرائیل
یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر بھارت نے اپنے اولین ردعمل میں کہا تھا کہ بھارت فلسطین کے حوالے سے اپنے آزاد موقف پر قائم ہے اور اس میں کسی تیسرے ملک کا کوئی دخل نہیں ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا، ’’فلسطین کے حوالے سے بھارت کا موقف آزادانہ اور تسلسل پر مبنی ہے اور کسی تیسرے ملک کے فکر و عمل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘
بعض بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزارت خارجہ کا بیان بھارت کا رسمی موقف ظاہر کرنے کے لئے ناکافی ہے۔کیوں کہ فلسطین سے تعلقات اور حمایت کی بھارت کی تاریخ خود اس کی اپنی آزادی کی تاریخ سے بھی زیادہ قدیم ہے، اس لئے بھارت کو فلسطین کی حمایت میں واضح موقف کا اظہار کرنا چاہئے ۔ لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت نے حکمت سے کام لیتے ہوئے ایک متوازن بیان دیا ہے۔

سشما سوراج کا اسرائیل کا پہلا سرکاری دورہ
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے قومی سیکریٹری اتل کمار انجان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ فلسطین کے ساتھ رہا ہے، اس لئے اسرائیل کے دارالحکومت کے حوالے سے امریکا کے فیصلے پر بھارت کو مداخلت کرنی چاہئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر یورپی ممالک بھی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے سے انکار کر رہے ہیں کیوں کہ ان کا یہ خیال درست ہے کہ اس سے پورے مشرق وسطی میں امن و امان کو خطر ہ لاحق ہوجائے گا۔

مودی کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں، اسرائیل

کمیونسٹ رہنما کا کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہے۔ شمالی کوریا کا پہلے سے ہی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جب کہ جنوبی کوریا میں 1950 سے امریکا کے اسی ہزار فوجی قبضہ کئے ہوئے ہیں، ایران کی بھی ناکہ بندی کی گئی تھی اور اب امریکا نے ایک بار پھر یک طرفہ فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ 2014ء  میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور اسرائیل کے درمیان تمام شعبوں میں باہمی تعلقات کافی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین متعدد اعلی سطحی دورے بھی ہوتے رہے ہیں۔ وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔ گوکہ مودی حکومت میں بھارتی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے حوالے سے کافی قربت دکھائی دے رہی ہے لیکن بعض سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے حکومت توازن برقرار رکھنے کی بھی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اس نے گزشتہ مئی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے چار روزہ دورہ کی میزبانی کی تھی۔ اس دورہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے فلسطینی کاز کے حوالے سے ’’غیر متزلزل حمایت‘‘ کا اعلان کیا تھا۔
دریں اثنا آج ملک بھر میں نماز جمعہ کے بعد بیشتر مساجد میں فلسطینیوں کے لئے امن و سلامتی کی دعائیں کی گئیں۔ خطیبوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی اور مسلمانوں کے قبلہ اول کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچانے کے لئے دنیا کی تمام حکومتوں اور بالخصوص مسلم ملکوں کے رہنماوں کو متحد ہوکر ٹھوس لائحہ عمل اپنانے کی اپیل کی۔ بھارت کی تمام مسلم جماعتوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

DW.COM