’نریندر مودی امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں‘ | حالات حاضرہ | DW | 20.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نریندر مودی امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں‘

امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جون میں اپنے دورے کے دوران امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا چاہیے۔

Washington Nukleargipfel Obama Treffen Narendra Modi

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر باراک اوباما، جنہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو اکیس ویں صدی کی اہم ترین شراکتوں میں سے ایک قرار دیا ہے

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے ری پبلکن پارٹی سے وابستہ چیئرمین اَیڈ روئس اور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما ایلیٹ اینگل نے اسپیکر پال راین کے نام ایک مراسلہ تحریر کیا ہے۔ اس مراسلے میں کہا گیا ہے: ’’بھارت کے ساتھ دفاع، انسانی امداد، خلائی تعاون اور تحفظ ماحول سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تر تعلقات کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ کانگریس کے پاس وزیر اعظم کی زبان سے براہِ راست باتیں سننے کا یہ ایک نادر موقع ہو گا۔‘‘

بھارتی وزیر اعظم کا امریکی کانگریس سے ممکنہ خطاب اب تک کی امریکی پالیسیوں میں کُلّی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب مسلمانوں کے قتلِ عام کے باعث مودی کے امریکا میں داخلے تک پر بھی پابندی عائد تھی۔

اسپیکر پال راین کی ایک خاتون ترجمان کے مطابق ابھی تک راین نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا کہ آیا وہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے ارکان کے مراسلے کے جواب میں واقعی مودی کو دعوت نامہ جاری کر دیں گے۔

گزشتہ سال سینیٹ یا ایوانِ نمائندگان سے خطاب کا اعزاز صرف دو شخصیات کے حصے میں آیا تھا۔ پاپائے روم فرانسس نے چوبیس ستمبر کو جبکہ اُن سے پہلے اُنتیس اپریل 2015ء کو جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

2014ء میں بھارت کے عام انتخابات میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور اُس کے حلیفوں کی تاریخی کامیابی کے بعد ابتدا میں اس طرح کے سوالات اٹھائے گئے کہ آیا مودی کو امریکا کا ویزہ بھی مل سکے گا۔ صدر باراک اوباما نے مودی کو اُن کی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دینے کے لیے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دے کر اس طرح کی قیاس آرائیاں فوری طور پر مسترد کر دی تھیں۔

نریندر مودی 2002ء میں بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تھے اور اُسی سال ریاست بھر میں ہونے والے مذہبی فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔ مودی کا موقف یہ تھا کہ اُن سے کوئی غلط کام سرزد نہیں ہوا ہے۔

Washington Rede Papst Franziskus vor dem Kongress OVERLAY

چوبیس ستمبر 2015ء کو پاپائے روم فرانسس امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

2005ء میں جارج ڈبلیو بُش کی انتظامیہ نے 1998ء کے اُس امریکی قانون کے تحت مودی کو امریکا کا ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا، جو ’مذہبی آزادی کی خاص طور پر سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب‘ غیر ملکیوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرتا ہے۔

واشنگٹن حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہت اہم گردانتی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی طاقت چین کے مقابلے پر ایک توازن پیدا کرنا چاہتی ہے۔