1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نریندر مودی ابھی تک اپنی نسل پرستانہ سوچ سے باہر نہیں نکل سکے‘

پاکستان کے سابق کرکٹ اسٹار  عمران خان نے امریکا پر تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اُس کی عسکری مہم سولہ سال سے جاری تنازعہ کو ختم نہیں  کر سکی ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا،’’ میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی غلط ہے، وہ نہ پاکستان کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی افغان عوام کے کردار کو۔‘‘ عمران خان نے کہا کہ  اگر آج بھی افغانستان میں طالبان ہتھیار نہیں ڈال رہے تو اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ کئی صدیوں سے افغانستان میں ہر بیرونی طاقت کے خلاف مزاحمت کی جاتی ہے۔ خان نے کہا،’’ مزید جنگ اور خون خرابہ اِس مسلح تنازے کا حل نہیں ہے، میں نے سترہ سال پہلے بھی یہی کہا تھا اور اب بھی یہی کہہ رہا ہوں۔‘‘

عمران خان نے امریکی ڈرون حملوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں گے تو امریکا کو کہوں گا کہ اس طرح جنگیں نہیں جیتی جاتیں۔‘‘ اپنے انٹرویو میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ رواں برس اگست میں ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی افغان پالیسی نے پاکستانی قوم کو صدمے سے دوچار کیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے امریکا کے لیے سخت پالیسی، نتیجہ کیا ہو گا؟

ساڑھے تین ہزار اضافی امریکی فوجی افغانستان جائیں گے

عمران خان نے یہ الزام غلط ہے کہ پاکستان کی وجہ سے طالبان کی شکست نہیں دی جا سکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ہیں اور وہ اُن سے باہر نکل کر افغان علاقوں سے پاکستان پر بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب تک بہت کچھ کر چکا ہے، اب دوسرے ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔

سابق کرکٹر عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ خان نے کہا،''بھارتی وزیر اعظم ابھی تک اپنی نسل پرستانہ سوچ سے باہر نہیں نکل سکے۔‘‘

ملک کے اندرونی سیاسی حالات کے بارے میں عمران خان نے کہا،’’ نااہل قرار دیے جانے والے نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘‘ اس سال جولائی میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔

DW.COM