1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نریندرمودی کا دورہ برطانیہ احتجاجی مظاہروں کے سائے میں

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج جمعرات کو برطانیہ کے دورے پر لندن پہنچ گئے۔ اس دورے کے دوران نریندر مودی برطانوی پارلمیان سے خطاب کریں گے اور اُن کی ملکہ الزبیتھ دوم کے ساتھ ایک ظہرانے پر ملاقات بھی طے ہے۔

بھارتی وزیر اعظم کا برطانیہ کا یہ دورہء اقتصادی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس کے دوران بھارت اور اُس کے سابق نو آبادیاتی حکمران کے مابین اربوں کی تجارتی ڈیل پر دستخط ہونا ہیں۔ بھارت اور برطانیہ کا ایک دوسرے پر تجارتی انحصار بہت بڑھ گیا ہے۔

مودی ایک ایسے وقت میں برطانیہ پہنچے ہیں جب بھارت میں اُن کے خلاف عوامی تنقید بڑھ رہی ہے۔ اس کی اہم ترین وجوہات بھارت کی اقتصادی ترقی کی نمو میں سست روی اور نریندر مودی کی پالیسیوں پر سیاسی ردعمل میں اضافہ ہیں اور بھارت کے حالات اس وقت مستحکم نہیں ہیں اور نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی بہار کے اسمبلی انتخاب میں زبردست شکست سے دوچار ہوئی ہے۔

Großbritannien Indien Narendra Modi Ankunft in London

مودی کی لندن آمد پر بھارتی کمیونٹی کا استقبال

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے دفتر سے جمعرات کو شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین اربوں ڈالر کے معاہدے طے پائیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے بیان میں کہا یہ صرف تاریخی دورہ نہیں ہے بلکہ یہ تاریخی موقع بھی ہے۔

اُدھر مودی کے دورے کے دوران سکھ برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں مذہبی رواداری کے فقدان اور مودی کی سیاسی جماعت بی جے پی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

دریں اثناء 200 کے قریب مصنفوں نے، جن میں متنازعہ ناول نگار سلمان رُشدی بھی شامل ہیں، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو خط تحریر کیا ہے جس میں اُن سے کہا گیا ہے کہ کہ وہ مودی پر زور دیں کہ بھارت میں ’مصنفوں، فنکاروں اور دیگر اہم آوازوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جائے اور بھارت میں آزادی اظہار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘

Großbritannien Indien Narendra Modi Ankunft in London

مودی کے دورے کے موقع پر درجنوں مظاہرین نے احتجاج کا منصوبہ بنا رکھا ہے

اس خط پر دیگر معروف مصنفین جن میں ہاری کُزرو اور آئن مک ایون نے بھی دستخط کیے ہیں اور یہ لندن میں قائم مصنفین کی ایسو سی ایشن PEN انٹر نیشنل کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔

’’ مودی ناٹ ویلکم‘ نامی ایک گروپ نے بھارتی وزیر اعظم کے اس دورے کے وران جگہ جگہ احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کا اعلان کر کر رکھا ہے ۔اس کے سرکردہ عناصر کا کہنا ہے کہ ’’مودی بھارت میں آمریت پسند ثقافت کو پروان چڑھا رہے ہیں‘‘۔

مودی اپنے اس تین روزہ دورے کے دوران تاریخ ساز شخصیت مہاتما گاندھی کے مجسمے پر بھی حاضری دیں گے۔

DW.COM