1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نجی جرمن بینک کو ایران وابستگی پرپابندی کا سامنا

امریکہ کی وزارت خزانہ کے ایک اعلان کے مطابق جرمن شہر ہیمبرگ میں قائم پرائیویٹ جرمن بینک نے ایران کو اربوں ڈالر کی غیر قانونی ترسیل کی ہے اور اس طرح بینک ایرانی جوہری پروگرام میں معاونت کا کردار ادا کر رہا ہے۔

default

ایران سے وابستہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ کے EIH Bank کا صدر دفتر جرمن شہر ہیمبرگ میں قائم ہے۔ یہ بینک بنیادی طور پر ایک جرمن مالیاتی ادارہ ہے۔ اس کی انتظامیہ میں ایرانی افراد نمایاں ہیں۔ یہ بینک ایران سے متعلق درآمدات و برآمدات میں قابل اعتماد سروس فراہم کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ اس کی برانچیں مختلف ایرانی شہروں میں قائم ہیں۔ اس بینک پر امریکی وزارت خزانہ نے الزام لگایا ہے کہ اس کے توسط سے ایران کو اربوں ڈالر کی رقوم کی منتقلی کا عمل گزشتہ ماہ کے دوران مکمل کیا گیا ہے اور اس طرح EIH Bank ایرانی جوہری پروگرام میں بالواسطہ انداز میں معاونت کا مرتکب ہوا ہے۔

امریکی ٹریژری کے محکمے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اربوں ڈالر کی رقوم کی منتقلی ایرانی حکومت کو کی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کا یہ بھی کہنا ہے

Logo der eihbank

ہیمبرگ میں قائم بینک کا لوگو

کہ سردست یہ بینک ایران کے لئے اہم مالیاتی لائف لائن کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ بیان امریکی محکمہ ء خزانہ کے نائب وزیرسٹورٹ لیوی نے جاری کیا ہے۔ لیوی کے مطابق یہ بینک اب امریکی مالیاتی نظام میں پابندی کا سامنا کرے گا اور کوئی بھی امریکی بینک مستقبل میں EIH Bank سے کسی طرح کا لین دین نہیں رکھے گا۔

سٹورٹ لیوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی سطح پر چند ایرانی بینک باقی ہیں اور یورپی مالیاتی سسٹم میں رہتے ہوئے گزشتہ کچھ عرصے میں EIH Bank نے ان مختلف ایرانی بینکوں کو بڑی مالیت کی رقوم کی منتقلی کی ہے جو ایران کے جوہری پروگرام میں پابندی سے قبل باقاعدہ مختلف طریقوں سے معاونت کے اسباب فراہم کرتے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی محکمہ ء خزانہ نے ایرانی تجارتی معاملات سے وابستہ EIH Bank پر پابندی کا فیصلہ جرمن حکومت کی مشاورت سے کیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق عنقریب جرمن حکومت بھی ایسا ہی فیصلہ کرنے کا اعلان کرنے والی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس