1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نا اہلی کے بعد: نواز شریف کے پاس قانونی اور سیاسی آپشنز کیا ہیں؟

پانامہ کیس سے متعلق پاکستانی سپریم کے فیصلے کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے لیے قانونی اور سیاسی راستے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

Pakistan Premierminister Nawaz Sharif (Reuters/C. Firouz)

’’ نواز شریف مظلومیت کا رونا بھی نہیں رو سکتے‘‘

قانونی فیصلے میں تبدیلی کے امکانات؟

قانونی ماہرین کے خیال میں یہ فیصلہ بہت سخت ہے اور نواز شریف کے پاس کوئی زیادہ قانونی آپشنز نہیں ہیں۔ اس مسئلے پر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کاشف پراچہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’نواز شریف کے پاس صرف نظرِ ثانی کا آپشن ہے ۔ وہ ایک پٹیشن فائل کرسکتے ہیں، جس میں وہ عدالت سے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کر سکتے ہیں لیکن اس صورت میں بینچ بھی وہی ہوگی اور قانونی ماہرین کی ٹیم بھی پرانی ہوگی۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہمیں بمشکل ہی کوئی قانونی مثال ملے گی، جہاں عدالت نے نظرِثانی کے اپیل میں اپنا پرانا فیصلہ بدلا ہو۔ ہائی کورٹ ایسے معاملے میں اپنے پرانے فیصلے نہیں بدلتی، توسپریم کورٹ تو پھر سپریم کورٹ ہے۔ ہاں اگر ریکارڈ میں کوئی ایسی چیز غائب ہوئی ہو، جو بڑی اہمیت کی حامل ہے اور اگر نواز شریف کے وکلاء اس کی نشاندہی کریں یا پھر کوئی بہت ہی بڑی بد انتظامی ہوئی ہو، تو شاید اس صورت میں عدالت اپنے فیصلے کے بارے سوچے۔ بادی النظر میں ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بڑی بد انتظامی ہوئی ہو یا کوئی بڑی چیز ریکارڈ سے غائب ہوئی ہو۔ تو میرے خیال میں تو میاں صاحب کے پاس بہت ہی محدود قانونی آپشن ہے اور اس میں بھی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘
لیکن پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین اختر حسین اس حوالے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قابل وصول اثاثوں کا ذکر کیا ہے، ’’میرے خیال میں پہلی بار کسی عدالت نے اثاثوں کی تشریح اس طرح کی ہے۔ جو چیز جائیداد یا کسی اور صورت میں آپ کے پاس موجود ہے، وہ اثاثوں کے زمرے میں آتی ہے لیکن ایک رقم، جو قابلِ وصول تھی، لیکن آپ کے پاس نہیں تھی، وہ اثاثوں کے زمرے میں کیسے آسکتی ہے؟ یہ وہ نقطہ ہے جس کو قانونی طور پر نظرِ ثانی کی اپیل میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ نواز شریف کے پاس نظرِ ثانی کی اپیل کے لئے تیس دن کا وقت ہے۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’عدالت نے نیب کی عدالتی کاروائی کی نگرانی کے لیے جو بینچ بنانے کی بات کی ہے، یہ فیئر ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے۔ جب سپریم کورٹ کا جج نگرانی کرے گا تو نیب کی ڈسٹرکٹ عدالت تو نواز شریف کے لوگوں کے خلاف ہی فیصلہ دے گی۔ اس سے فیئر ٹرائل کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ تو نظرِ ثانی کی اپیل میں فیصلے کے اس حصے کو بھی قانونی نکات میں اٹھایا جاسکتا ہے۔‘‘

سیاسی امکانات بھی بہت محدود

سیاسی مبصرین کے خیال میں بھی نواز شریف کے پاس نہ صرف قانونی آپشنز بہت کم ہیں بلکہ ان کے پاس سیاسی راستے بھی محدود ہیں۔ روزنامہ ڈان کے سابق ایڈیٹر اور معروف تجزیہ نگار ضیاء الدین نے سیاسی آپشنز کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’نواز شریف کے پاس کوئی سیاسی آپشن دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی پارٹی میں سب رہنما ہیں، ورکرز کوئی نہیں ہے اور لیڈرز جیتنے والوں کے ساتھ جاتے ہیں، ہارنے والوں کے ساتھ نہیں۔ نواز شریف ہار گئے ہیں تو قوی امکان یہ ہی ہے کہ ان کے پارٹی رہنما بھی ان کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔‘‘
ضیاء الدین کے خیال میں نواز شریف مظلومیت کا رونا بھی نہیں رو سکتے، ’’بے نظیر بھٹو اور پی پی پی مظلومیت کا رونا اس لیے روتے تھے کہ عوام جانتی تھی کہ بھٹو کو ایک سازش کے تحت پھانسی دی گئی تھی۔ ان کی جماعت کی جڑیں پورے پاکستان میں تھیں۔ ان پر کوئی کرپشن کا الزام نہیں تھا۔ بے نظیر نے بھی سارے مقدمات کا سامنا کیا اور سوئس مقدمے کے علاوہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے لیکن نواز شریف تو رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے کہ آپ وزیرِ اعظم بھی ہیں اور اقامہ بھی آپ نے رکھا ہوا ہے۔ تو نواز شریف بھٹو اور پی پی پی کی طرح مظلوم نہیں اور ان کا سیاسی گڑھ پنجاب ہے جہاں سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کا رواج عام ہے۔ نون لیگ کے رہنما پی ٹی آئی یا پی پی پی کے ساتھ چلے جائیں گے اور نواز شریف سیاسی میدان میں تنہا رہ جائیں گے۔ تو میرے خیال میں نواز شریف کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔‘‘

DW.COM