1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناگاساکی پر جوہری حملے کی 70 ویں برسی، خصوصی تقریبات

جاپانی شہر ناگاساکی پر جوہری حملے کی 70 ویں برسی اتوار کے روز منائی جا رہی ہے۔ اس حملے میں 74 ہزار سے زائد افراد لقمہء اجل بن گئے تھے۔ ہیروشیما کے بعد یہ دوسرا شہر تھا، جس پر امریکی طیارے نے ایٹم بم گرایا۔

جاپانی عوام ناگاساکی پر جوہری حملے کی یہ برسی ایک ایسے موقع پر منا رہے ہیں، جب وزیراعظم شینزو آبے کی حکومت ملکی فوج کے کردار کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ اسے جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے اس کے بجٹ میں نمایاں اضافے کے اقدامات میں مصروف ہے۔

ناگاساکی پر نو اگست 1945ء کو امریکی طیارے نے مقامی وقت کے مطابق 11 بج کر دو منٹ پر ایٹم بم گرایا تھا۔ اسی مناسبت سے آج ٹھیک اسی وقت گھنٹیاں بجائی گئیں اور ہزاروں افراد نے ہلاک شدگان کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ ناگاساکی میں منعقدہ اس تقریب میں اس واقعے میں بچ جانے والے افراد کے علاوہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔

وزیراعظم شینزو آبے نے ناگاساکی میں منعقدہ مرکزی تقریب میں شرکت کی، جب کہ اس موقع پر 75 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جن میں جاپان میں تعینات امریکی سفیر کیرولائن کینیڈی بھی شامل تھیں۔

Japan Tokio Zweiter Weltkrieg Bombardement 1945

لمحوں میں یہ شہر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا

اس موقع پر آبے نے اپنے خطاب میں کہا، ’ایٹمی حملے کا سامنا کرنے والے دنیا کے واحد ملک کے طور پر میں اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے اقدامات کرتے رہیں گے، تاکہ دنیا کو اس ہتھیار سے نجات دلائی جا سکے۔‘

انہوں نے اس موقع پر یہ وعدہ بھی کیا کہ جاپان اپنے ان تاریخی اصولوں پر بھی ڈٹا رہے گا، یعنی جاپانی سرزمین پر جوہری ہتھیار نہ تیار ہوں گے، نہ تیاری کی کوشش ہو گی اور نہ ذخیرہ کیے جائیں گے۔‘

چھ اگست کو ہیروشیما پر جوہری حملے کی 70 ویں برسی کے موقع پر اپنے خطاب میں ان تین اصولوں پر بات نہ کرنے کی وجہ سے ملکی سطح پر شینزو آبے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب کہ اس قوم پرست رہنما کے ان اقدامات کو بھی تنقید کا سامنا ہے، جن میں وہ ملکی فوج کے کردار میں اضافے کی کوشش میں ہیں۔

ناگاساکی حملے میں بچ جانے والے 86 سالہ سومیتیرو تانی گوچی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں الزام عائد کیا کہ شینزو آنے کی حکومت ملک کے امن پسند دستور کو تبدیل کر کے جاپان کو دوسری عالمی جنگ سے پہلے والا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

اس ایٹمی حملے میں زندہ بچ جانے والے افراد کو جاپانی زبان میں ’ہیباکُوشا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تانی کوچی نے مزید کہا کہ جاپانی حکومت کے اقدامات سے ہیباکوشا افراد میں وہ امید گھٹتی جا رہی ہے، جو وہ ایک طویل مدت سے دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے تحریک کے حوالے سے قائم کیے بیٹھے ہیں۔

خیال رہے کہ جاپانی حکومت نے حال ہی میں پارلیمان میں قانونی بل پیش کیے ہیں، جن کے تحت کسی اتحادی ملک پر حملے کی صورت میں جاپان بھی لڑائی میں شریک ہو سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان میں اس قسم کا عسکری قانون پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے۔ جاپان پر امریکی قبضے کے بعد بننے والے دستور میں یہ طے کیا گیا تھا کہ جاپان اپنے دفاع کے علاوہ کسی بھی قسم کی عسکری مہمات میں شامل نہیں ہو گا۔