1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناگاساکی پر ایٹم بم حملے کے 66 برس

دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکیوں نے جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کے تین روز بعد 9 اگست سن 1945ء کو ناگاساکی پر بھی ایٹم بم سے حملہ کر دیا تھا۔ آج اِس جاپانی شہر پر اس ہولناک حملے کو 66 برس پورے ہو گئے۔

ناگاساکی کو تباہ کرنے والا ’فَیٹ مین‘

ناگاساکی تباہ کرنیوالا ’فَیٹ مین‘

اس موقع پر آج ناگاساکی میں خصوصی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ آج عین اُس جگہ سے قریب، جہاں یہ بم گرایا گیا تھا، مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناگاساکی کے میئر ٹومی ہِیسا تاؤ نے اپنے شہر کے اُن 80 ہزار باسیوں کی یاد تازہ کی، جو اس حملے میں مارے گئے تھے۔ ساتھ ہی اُنہوں نے گیارہ مارچ کو جاپان میں زلزلے اور سونامی کے بعد جوہری ری ایکٹر فوکوشیما میں پیش آنے والے حادثے کے پس منظر میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ جاپان کو ایٹمی توانائی سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔

ناگاساکی کا امن پارک، جہاں ہر سال ایٹم بم حملے کی یادگاری تقریب منعقد کی جاتی ہے

ناگاساکی کا امن پارک، جہاں ہر سال ایٹم بم حملے کی یادگاری تقریب منعقد کی جاتی ہے

ناگاساکی کے میئر نے کہا کہ جاپان کو اب اپنی پوری توجہ سورج، ہوا اور حیاتیاتی انبار جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے استفادے پر مرکوز کر دینی چاہیے۔ میئر نے کہا کہ جاپان کے لیے اب فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اُنہوں نے سوال کیا: ’’آخر کیوں اس ملک کو، جس نے اتنا طویل عرصہ ایٹم بم حملے کے متاثرین سے نمٹنے میں صرف کیا ہے، ایک بار پھر تابکاری کے مسلسل خطرے کے سائے میں زندگی گزارنا پڑ رہی ہے؟‘‘

اس موقع پر جاپانی وزیر اعظم ناؤتو کان بھی موجود تھے، جنہوں نے کہا کہ اُن کی حکومت اب ایسے اقدامات کرے گی، جن کے نتیجے میں ایٹمی توانائی پر جاپان کا انحصار بتدریج کم ہوتا چلا جائے۔ 66 برس پہلے ناگاساکی کی تباہی کو یاد کرتے ہوئے کان نے کہا: ’’ہمیں اِس تباہی کی یاد کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ ایسا کوئی واقعہ پھر سے رونما ہو۔‘‘ اس تقریب میں ٹوکیو میں متعینہ امریکی سفارتکار جیمز زُوم والٹ بھی شریک تھے، جنہوں نے کہا کہ واشنگٹن حکومت ’ایٹمی توانائی سے پاک دُنیا‘ کی تشکیل کے سلسلے میں جاپان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہاں ہے۔ آج ناگاساکی کی تقریب میں 44 ممالک نے اپنے نمائندے بھیج رکھے تھے، جو کہ ایکریکارڈ ہے۔

ناگاساکی میں ’فَیٹ مَین‘ نامی ایٹم بم گرائے جانے کے بعد دھوئیں کا ایک بڑا بادل بلند ہوتا دکھائی دے رہا ہے

ناگاساکی میں ’فَیٹ مَین‘ نامی ایٹم بم گرائے جانے کے بعد دھوئیں کا ایک بڑا بادل بلند ہوتا دکھائی دے رہا ہے

ناگاساکی پر ’’فَیٹ مَین‘ نامی ایٹم بم کے حملے سے تین روز پہلے چھ اگست 1945ء کو ہیروشیما پر گرائے جانے والے پہلے ایٹم بم ’لٹل بوائے‘ کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ان حملوں کے چند ہی روز بعد 15 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور یوں دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی تھی۔ جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ ایٹم بم کے ان حملوں کے اثرات بعد کے عشروں میں بھی دیکھنے میں آتے رہے ہیں اور یہ کہ ان گزرے 66 برسوں کے دوران مزید لاکھوں انسان اسی تابکاری کے باعث موت کا شکار ہوئے ہیں۔

ہیروشیما پر گرائے گئے پہلے ایٹم بم ’لٹل بوائے‘ کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے تھے

ہیروشیما پر گرائے گئے پہلے ایٹم بم ’لٹل بوائے‘ کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے تھے

اس سال گیارہ مارچ کے سانحے تک جاپان اپنی توانائی کی 30 فیصد ضروریات ایٹمی توانائی سے پوری کر رہا تھا اور اس تناسب کو 2030ء تک بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانا چاہتا تھا۔ فوکوشیما جوہری حادثے کے پانچ ماہ بعد صورتِ حال یہ ہے کہ جاپان کے مجموعی طور پر 54 میں سے صرف 16 ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے ہیں۔ بند ایٹمی بجلی گھروں میں سلامتی اور حفاظت کے نظام جانچے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ملک کے ماحول پسندوں کا بھی یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ ٹوکیو حکومت ایٹمی توانائی پر انحصار کے منصوبوں پر نظر ثانی کرے اور توانائی کے اس خطرناک ذریعے کو ترک کرتے ہوئے توانائی کے زیادہ محفوظ ذخائر سے استفادے کو یقینی بنائے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس