1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناگاساکی ، ايٹم بم پھينکے جانے کی ياد گار تقريب

جاپان کے شہر ناگاساکی ميں آج 65 سال قبل امريکی ايٹم بم کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کی ياد منانے کے لئے ايک تقريب منعقد ہوئی، جس ميں پہلی مرتبہ فرانس اور برطانيہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی

default

نو اگست سن 1945 کو امريکی اير فورس کے B29 بمبار طيارے کے ناگاساکی پر ايٹم بم گرانے کے بعد بلند ہونے والا دھويں کا بادل

جاپان کے شہر ناگاساکی ميں آج 65 سال قبل امريکی ايٹم بم کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کی ياد منانے کے لئے ايک تقريب منعقد ہوئی، جس ميں پہلی مرتبہ فرانس اور برطانيہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں ميں امريکہ نے ناگاساکی پر ایٹم بم پھينکنے سے تين روز قبل ہيروشيما پر بھی ایک ايٹم بم پھينکا تھا۔ اس طرح جاپان کو يہ افسوسناک مقام حاصل ہے کہ وہ دنيا کا پہلا ملک ہے، جس پر ايٹم بم گرائے گئے۔ آج ناگاساکی میں ہونے والی تقريب ميں کوئی امريکی نمائندہ شريک نہيں ہوا، جس کی وجہ مصروفيات بتائی گئيں، ليکن جمعے کو ہيروشيما ميں پہلے ايٹم بم گرائے جانے کی ياد ميں ہونے والی ایک تقريب ميں پہلی مرتبہ ايک امريکی نمائندہ بھی شريک ہواتھا، جس کا پس منظر امريکی صدر اوباما کی دنيا کو ايٹمی ہتھياروں سے پاک کرنے کی خواہش بھی ہے۔ يہ پہلا موقع ہے کہ امريکہ کے دوسری عالمی جنگ کے اتحاديوں اور مسلمہ ايٹمی طاقتوں فرانس اور برطانيہ نے جمعے کو ہيروشيما پر ایٹم بم گرائے جانے کی ياد ميں منائی جانے والی تقريب ميں اپنے نمائندے بھيجے۔ يہ عمل جوہری ہتھیاروں ميں کمی کے ہدف کے لئے ان دونوں ممالک کی حمايت کی علامت بھی تھا۔

جاپانی وزير اعظم نے جمعے کو اپنی اس بات کو دہرايا کہ ايٹمی حملے کا نشانہ بننے والی واحد قوم کی حيثيت سے جاپان کی يہ ذمہ داری ہے کہ وہ ’’دنیا کو ايٹمی اسلحے سے پاک کرنے کے اقدامات کی قيادت کرے۔‘‘

Nagasaki Gedenktag 2010

اقوام متحدہ کے جنرل سيکرنٹری بان کی مون ناگاساکی ميں انٹم بم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی يادگار پر تقرنر کرتے ہوئے

آج پیر کو ناگاساکی کی اس تقريب ميں 32 ممالک کے نمائندے شريک ہوئے، جن ميں پہلی بار اسرائيل بھی شامل تھا۔ تقريب کے دوران 11 بج کر دو منٹ پر مکمل خاموشی اختيار کی گئی۔ يہ 65 سال قبل اس شہر پر امريکی ايٹم بم گرائے جانے کا وقت تھا۔

ناگاساکی کے ميئر تومی ہيساتاؤ نے اپنے ايک بيان ميں عالمی ايٹمی طاقتوں سے کہا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے کام کريں۔ انہوں نے جاپان پر زور ديا کہ وہ اس سلسلے ميں قائدانہ کردار ادا کرے۔ ميئر تومی نے اقوام متحدہ کے سيکريٹری جنرل بان کی مون کی اس اپيل کی بھی حمايت کی کہ ايٹمی ہتھياروں کو ممنوع قرار دے ديا جائے۔ انہوں نے کہا: ’’ايٹم بم کا نشانہ بننے والے شہر کے طور پر ہم جوہری ہتھياروں پر پابندی کے منشور کی بھر پور حمايت کرتے ہيں، جس کے تحت دنيا کے تمام ممالک پر ايٹمی ہتھيار بنانے، استعمال کرنے اور انہيں اپنے پاس رکھنے پر پابندی ہونی چاہئے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سيکريٹری جنرل بان کی مون ہيروشيما منعقدہ تقريب سے ايک دن قبل جمعرات کو ناگاساکی پہنچے تھے۔ وہ اقوام متحدہ کے پہلے سربراہ ہيں، جنہوں نے اس تقريب ميں شرکت کی۔

ناگاساکی پر پھينکے جانے والے ايٹم بم کو Fat Man کا نام ديا گيا تھا۔ اس بم کی تابکار شعاعوں اوراس کی حرارت سے جل جانے کے نتيجے ميں فوری طور پر اور بعد ميں 70 ہزار سے زائد جاپانی ہلاک ہوئے تھے۔ ہيروشيما پر گرائے جانے والے چار ٹن وزنی يورينيم بم کو Little Boy کا نام ديا گيا تھا اور اس کی تباہ کاريوں کے ہاتھوں تقریباً ايک لاکھ 40 ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

Amerikanische Atomwaffe Fat Man

فيٹ مين ساخت کا امريکی ايٹم بم۔ناگاساکی پر اسی قسم کا بم پھيکا گيا تھا

ہيروشيما اور ناگاساکی دونوں پر پھينکے جانے والے بموں کے پھٹنے سے آنکھوں کو خيرہ کر دينے والی انتہائی تيز روشنی کے علاوہ آگ کے زبردست گولے پيدا ہوئے تھے، جن کی حدت ريت کو شيشے میں اور وہاں موجود کسی بھی انسان کو بخارات ميں تبدیل کر دینے کے لئے کافی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے 15 اگست کو ہتھیار ڈال دئے تھے، جس کے ساتھ ہی بحرالکاہل کے علاقے ميں یہ جنگ بھی ختم ہو گئی تھی۔

امريکہ نے آج تک جاپان کے اس مطالبے کو تسليم نہيں کيا کہ وہ ايٹم بموں کے حملوں کے نتيجے ميں بےگناہ انسانی جانيں ضائع ہونے پر معافی مانگے۔ کئی مغربی مؤرخين کا خيال ہے کہ يہ ايٹم بم جنگ کے جلد خاتمے کے لئے ضروری تھے اور اس طرح جاپان پر قبضہ کرنے کے لئے زمينی جنگ غير ضروری بنا دی گئی تھی، جس ميں اور بھی زيادہ نقصان ہو سکتا تھا۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ايٹمی حملوں کی کوئی ضرورت نہيں تھی اور شايد ان کے استعمال کی وجہ ان جوہری ہتھياروں کو آزمانا تھا۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس