1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناکام ٹرین حملہ، کڑیاں’ دہشت گردی‘ سے ملتی ہوئیں

فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے بتایا ہے کہ ناکام ٹرین حملہ کرنے والے چھبیس سالہ مراکشی ملزم کو ’مشتبہ دہشت گرد‘ تصور کرتے ہوئے تفتیشی عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ چوری کی دعوؤں کے برعکس وہ بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرنا چاہتا تھا۔

پراسیکیوٹر فرینکوئس مولنز نے کہا ہے کہ ملزم ایوب الخزانی ایک کلاشنکوف رائفل سے مسلح تھا اور اس کے پاس سینکڑوں گولیاں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ اس ملزم کے پاس پٹرول کی ایک بوتل اور ایک باکس کٹر بھی تھا۔ سرکاری پراسیکیوٹرز نے بتایا ہے کہ ملزم اس حملے کی کئی ماہ پہلے سے تیاری جاری رکھے ہوئے تھا۔

فرینکوئس مولنز کا کہنا تھا کہ ایوب الخزانی کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ مسافروں کو لوٹنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن یہ دعویٰ مزید ’قابل اعتبار‘ نہیں رہا۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کو تیزی سے شواہد مل رہے ہیں جبکہ ملزم نے پیر کے روز سے تفتیشی عمل میں تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ بالکل خاموش ہے۔

فرینکوئس مولنز کا مزید کہنا تھا کی ملنے والے شواہد کی بنیاد پر ملزم کے خلاف دہشت گردانہ منصوبے کے تحت ’اقدام قتل‘ کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ ایوب الخزانی نے جون میں ترکی کا دورہ کیا تھا، جہاں وہ ایک ایسے شہر میں بھی گیا، جو شام کی سرحد کے بالکل قریب ہے۔ ملزم کے فون ڈیٹا سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ناکام حملے سے پہلے الخزانی نے ایک جہادی ویڈیو دیکھی تھی۔

فرینکوئس مولنز نے ملزم کے اس دعوے پر بھی شک کا اظہار کیا ہے کہ اس کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ وہ کسی رہائش میں رہ سکتا اور وہ بے گھر تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ فرسٹ کلاس کی ٹکٹ تک خرید سکتا تھا۔

قبل ازیں ملزم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس کلاشنکوف اصل میں ٹوٹی ہوئی حالت میں تھی، جو قابل استعمال نہیں تھی اور اسے یہ کلاشنکوف ایک سوٹ کیس میں برسلز کے ایک پارک سے ملی تھی، جہاں ایک دن پہلے اس نے ایک رات بسر کی تھی۔

یاد رہے کہ ملزم نے ایمسٹرڈیم سے پیرس جانے والی ایک ٹرین میں حملے کی کوشش کی تھی، جہاں چار مسافروں نے اس کلاشنکوف بردار مسلح حملہ آور کو قابو کر لیا تھا۔ گزشتہ روز ہی فرانسیسی صدر نے حملہ ناکام بنانے والے تین امریکیوں اور ایک برطانوی شہری کو فرانس کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ دیا ہے۔

اس ملزم نے جس ٹرین پر حملے کی کوشش کی تھی، اس پر پانچ سو سے زائد مسافر سوار تھے۔ ہسپانوی پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شخص سن دو ہزار سات سے سن دو ہزار چودہ تک اسپین میں رہا، جب کہ اسے متعدد مرتبہ منشیات کی تجارت کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ فی الحال یہ ملزم انسداد دہشت گردی کی پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیشی عمل جاری ہے۔