1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ناکام ملک بدریاں، جرمن حکام کے لیے درد سر

پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچنے والے لاکھوں تارکین وطن کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں تاہم ایسے پناہ کے متلاشی افراد کو واپس ان کے آبائی وطنوں کی جانب بھیجنا جرمن حکام کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے۔

جرمنی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ وفاقی جرمن ریاست زیریں سیکسنی کی صورت حال سے لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ برس کے دوران زیریں سیکسنی نے جن تارکین وطن کو جرمنی سے واپس ان کے ملکوں کی جانب بھیجنا تھا، ان میں سے ہر دوسرا پناہ گزین واپس نہیں بھیجا جا سکا۔ ایک مقامی جرمن اخبار ’نیو اوسنابرُوکر سائٹنگ‘ کے مطابق یہ بات صوبائی وزارت داخلہ نے چانسلر میرکل کی سیاسی سی ڈی یو کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتائی۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

گزشتہ برس کے دوران زیریں سیکسنی کے ریاستی حکام نے غیر ملکیوں سے متعلق شہری اداروں کو 4349 ایسے پناہ گزینوں کو واپس ان کے آبائی وطنوں کی جانب بھیجنے کو کہا تھا، جن کی جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ تاہم یہ ادارے 2390 غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے میں ناکام رہے تھے۔

زیریں سیسکنی کی وزارت داخلہ کے مطابق تارکین وطن کو ملک بدر نہ کیے جانے کے باعث ریاستی حکومت کو چھیاسی ہزار یوروز سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

حکام کے مطابق ناکام ملک بدریوں کی کئی وجوہات ہیں۔ کئی تارکین وطن خراب صحت کی وجہ سے ملک بدر نہ کیے جا سکے جب کہ کئی دیگر ملک بدری کے خوف سے روپوش ہو گئے۔

زیادہ تر پناہ گزینوں نے ملک بدری کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا اور عدالتی حکم پر انہیں واپس نہیں بھیجا گیا جب کہ تارکین وطن کے پاس پاسپورٹ اور دیگر مطلوب سفری دستاویزات نہ ہونا بھی ان کی ملک بدری میں رکاوٹ کا سبب بنا۔ تاہم ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آئے کہ پناہ گزین جبری ملک بدری سے پہلے ہی رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے۔

نیو اوسنابرُوکر سائٹنگ کے مطابق اس صورت حال کے باوجود سن 2015 کے مقابلے میں 2016ء میں تارکین وطن کی ملک بدریوں میں ستر فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ 2015ء میں زیریں سیکسنی سے سینتیس سو سے زائد غیر ملکیوں کو ملک بدر نہیں کیا جا سکا تھا جس کے باعث ریاست کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار یورو سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

کرسچن ڈیموکریٹک یونین سے تعلق رکھنے والی ایک مقامی سیاست دان انگلیکا یانس کا کہنا تھا کہ اب بھی ایسے غیر ملکیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے جنہیں ان کے آبائی وطنوں کی جانب نہیں بھیجا جا سکا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ غیر ملکیوں کے امور سے متعلق شہری ادارے شہری سطح کے بجائے مرکزی سطح پر یکجا ہو کر تارکین وطن کو اجتماعی طور پر ملک بدر کریں۔

شناخت چھپانے کی صورت میں مہاجرین کا موبائل بھی ضبط

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

DW.COM