1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناکام مسلح بغاوت میں 264 ہلاکتیں، تین ہزار ترک فوجی گرفتار

ترکی میں جمعہ پندرہ جولائی کی رات ناکام بنا دی گئی فوجی بغاوت کے دوران کم از کم 264 افراد مارے گئے جبکہ قریب تین ہزار باغی فوجی اہلکاروں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، جن میں پانچ جنرل اور انتیس کرنل بھی شامل ہیں۔

Türkei Ankara

ناکام فوجی بغاوت کے دوران ملکی پارلیمان اور صدارتی محل کے قریب فضائی حملے بھی کیے گئے

ملکی فوج کے ایک باغی دھڑے کی طرف سے کی گئی اور اسی فوج کی حکومت نواز اکثریتی قیادت کی طرف سے سختی سے کچل دی جانے والی بغاوت کے قریب بارہ گھنٹے بعد ہفتہ سولہ جولائی کی صبح استنبول سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم انقرہ میں ملکی پارلیمان کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر چکے ہیں، جو مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی سہ پہر شروع ہو گا۔

ترک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اس ناکام بغاوت کے دوران انقرہ میں پارلیمان کی عمارت کو بھی شدید تقصان پہنچا، جس کی وجہ باغی فوجی اہلکاروں کے زیر استعمال جنگی ہیلی کاپٹروں سے کیے جانے والے فضائی حملے بنے۔

ان حملوں اور پھر مسلح بغاوت کے کچل دیے جانے کے بعد سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ان حملوں سے پارلیمان کی عمارت کی متعدد دیواریں گر گئیں اور بہت سی کھڑکیوں کے شیشےٹوٹ گئے۔

ناکام بغاوت کے آغاز پر ترک فوج کے ایک حصے نے متعدد ایف سولہ جنگی طیارے اور جنگی ہیلی کاپٹر اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔ صدر رجب طیب ایردوآن کے دفتر کے مطابق یہ بغاوت ’ترک فوج کے اندر ایک گروپ‘ نے کی تھی اور اس کا یہ عمل ’عسکری کمان کے معمول کے طریقہ کار سے باہر‘ تھا۔ صدر ایردوآن کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی فوج کو ایسے تمام باغی یا باغیانہ سوچ رکھنے والے عناصر سے پاک کر دیا جائے گا۔

Türkei Gebäude Nationalversammlung Zerstörung durch Bomben Ankara

انقرہ میں ملکی پارلیمان کی عمارت کو فضائی حملوں سے شدید نقصان پہنچا

Türkei Soldaten flüchten vor wütendem Mob

بغاوت ناکام رہنے کے بعد مشتعل شہری آبنائے باسفورس پر بنے ایک پل پر تعینات باغی فوجیوں کی پٹائی کرتے ہوئے

Türkei Schüsse in Ankara

ناکام بنا دی گئی فوجی بغاوت میں قریب دو سو افراد مارے گئے

اسی دوران ترک نشریاتی اداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ فوجی بغاوت کی اس خونریز کوشش کے دوران کم از کم 264 افراد مارے گئے جبکہ فوج کے قریب تین ہزار اہلکاروں (2839 فوجیوں اور افسران) کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ ان ہلاکتوں کی تصدیق آرمڈ فورسز کے قائم مقام سربراہ جنرل امید دوندار نے کی ہے۔

ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کے بقول گرفتار کیے گئے فوجی اہلکاروں میں پانچ جنرل اور کم از کم 29 کرنل بھی شامل ہیں، جنہیں فوج سے برطرف کر کے حراست میں لیا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم بن علی یلدرم کے مطابق گزشتہ رات اس ناکام بغاوت کے دوران ایک ایسا فوجی جنرل مارا بھی گیا، جو اس بغاوت کا حصہ تھا۔

انقرہ سے ملنے والی دیگر رپورٹوں کے مطابق ملکی دارالحکومت کے کچھ حصوں سے آج ہفتے کی صبح بھی اکا دکا فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس بغ‍اوت کے پیچھے مرکزی محرک شخصیات کون سی تھیں۔

اس ناکام بغاوت کی بہت سے اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور ملک کی چاروں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ ان سیاسی جماعتوں میں صدر ایردوآن اور وزیر اعظم یلدرم کی حکمران پارٹی اور اپوزیشن کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔

DW.COM