1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناکام اوپیک مذاکرات کے بعد، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تیل کے بڑے صارف ممالک نےکہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی طرف سے تیل کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا جاتا تو ہنگامی طور پر وہ اسٹاک میں رکھا ہوا تیل استعمال کریں گے۔

default

اوپیک کی طرف سے تیل کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکنے کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اوپیک کے رکن ممالک کی ایک میٹنگ میں تیل کی پیداوار اس کی طلب کے مطابق بڑھانے کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ اگرچہ سعودی عرب اور خلیجی عرب ریاستیں طلب اور رسد کے درمیان توازن قائم رکھنے کے حق میں تھے تاہم وینزویلا، ایران، الجزائر اور لیبیا نے اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا۔

واشنگٹن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر Nobuo Tanaka کا کہنا تھا، ’’اگر سعودی عرب موجودہ خلاء کو پر نہیں کر سکتا تو ہمیں ذخیرہ شدہ تیل کو استعمال کرنا پڑے گا۔‘‘

تناکا کا کہنا تھا کہ انہیں چند ہی روز میں بتا دیا جائے گا کہ سعودی حکومت تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے گی یا نہیں۔

NO FLASH OPEC Konferenz in Wien

گزشتہ روز وینزویلا، ایران، الجزائر اور لیبیا نے اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ اوپیک کے چند رکن ممالک تیل کی پیداوار وار میں اضافے پر رضا مند ہیں لیکن انہیں اوپیک کے فیصلے پر افسوس ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان جے کیرنے کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حکومت تیل کی سپلائی میں کمی کے بارے میں فکر مند ہے تاہم یہ راستہ کھلا رکھا جائے گا کہ امریکہ 727 ملین بیرل تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر استعمال کر سکتا ہے۔ جے کیرنے کا کہنا تھا، ’’ہمیں یقین ہے کہ اس وقت ہم ایسی صورتحال سے دوچار ہیں، جہاں رسد کےمقابلے میں طلب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

دوسری جانب جمعرات کو بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف 24 گھنٹوں کے دوران فی بیرل دو ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ لیبیا میں خانہ جنگی کی وجہ سے بھی وہاں کے تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ لیبیا میں اس وقت 1.5ملین بیرل تیل یومیہ کم پیدا کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM