1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’نانیوں اور دادیوں کے اسکول‘ کے ذریعے ناخواندگی کے خلاف جنگ

مغربی بھارت میں خواتین میں ناخواندگی کے خلاف مہم کے دوران پہلی مرتبہ ایک ایسا اسکول بھی چلایا جا رہا ہے، جہاں بزرگ خواتین لکھنا پڑھنا سیکھتی ہیں۔ اس منفرد تعلیمی ادارے کو ’نانیوں اور دادیوں کا اسکول‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں ایک ایسا اسکول کام کر رہا ہے، جہاں بہت سی ناخواندہ بزرگ خواتین کو زندگی میں پہلی بار یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ بھی لکھنا پڑھنا سیکھ سکیں۔ تاہم یہی بات یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت جیسے جنوبی ایشیائی ملک میں، جو اپنی 1.2 بلین سے زائد کی آبادی کی وجہ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، تعلیمی شعبے میں خواتین اور لڑکیوں کو ابھی تک کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈوئچے ویلے کے لیے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں بھارت سے سونیا پھالنیکر لکھتی ہیں: سوال یہ ہے کہ ایسی خواتین کو لکھنا پڑھنا کیسے سکھایا جائے جو عمر میں آپ کی والدہ یا نانی دادی کے برابر ہوں؟ اس سوال کا سامنا شیتل مورے کو اس وقت کرنا پڑا جب انہوں نے ’گرینڈ مدرز اسکول‘ میں پڑھانا شروع کیا۔

یہ اسکول مہاراشٹر کے ریاستی دارالحکومت ممبئی سے قریب 60 میل یا 95 کلومیٹر کے فاصلے پر پھنگانے نامی گاؤں میں گزشتہ برس کھولا گیا تھا اور اس کا مقصد خاص طور پر مقامی بزرگ خواتین میں ناخواندگی کی شرح کو کم کرنا ہے۔

یہ اسکول اونچے اونچے درختوں کے درمیان بانسوں کی مدد سے بنائی گئی ایک عارضی سے چاردیواری کے اندر قائم کیا گیا ایک ایسا ’مکتب‘ ہے، جہاں اسکول کی یونیفارم کے طور پر گلابی رنگ کی ساڑھیاں پہنے بہت سی عمر رسیدہ خواتین ہاتھوں میں سلیٹیں اور چاک لیے زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان خواتین میں سے ہر ایک کی عمر 50 برس سے زائد ہے اور چند ’طالبات‘ کی عمریں تو 80 برس کے قریب ہیں۔

اس اسکول کی خاتون ٹیچر شیتل مورے نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اپنی نجی زندگی میں نانیاں اور دادیان بن چکی کئی ’طالبات‘ تو بہت بوڑھی ہیں، اتنی عمر رسیدہ کہ ان کے حافظے کمزور ہو رہے ہیں اور انہیں پڑھنا لکھنا سیکھنے اور اپنا سبق یاد کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔‘‘

تیس سالہ شیتل مورے نے بتایا کہ اس اسکول میں پڑھاتے ہوئے انہیں کئی باتیں بار بار دہرانا پڑتی ہیں اور چند خواتین کی قوت سماعت کمزور ہو جانے کے باعث ان سے بات چیت کرتے ہوئے تو مورے کو تقریباﹰ چیخ چیخ کر بولنا پڑتا ہے۔

ماڈل یو این کانفرنسیں: مستقبل کے مسائل کے حل کی تیاری آج

پاکستان میں ترقی تعلیم کے ذریعے، سیما عزیز کا مشن

تعلیم کا بہتر معیار’ ایشیائی ممالک سب سے آگے‘

اس کے باوجود شیتل مورے اور ان کی ’طالبات‘ خوش ہیں کہ ان کوششوں کے مثبت نتائج نکل رہے ہیں اور وہ بزرگ خواتین جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایک لفط بھی نہیں لکھا تھا، اب لکھنا پڑھنا سیکھتی جا رہی ہیں۔

اس اسکول میں پڑھنے والی نانیاں اور دادیاں یہ تعلیم مہاراشٹر کی ریاستی زبان مراٹھی میں حاصل کرتی ہیں، وہ مراٹھی ہی میں حروف تہجی اور اعداد کو یاد کرتی ہیں اور انہیں لکھنے کی مشق کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی ایک نظر کی عینکیں بھی لگاتی ہیں اور جو حروف وہ یاد کر لیتی ہیں، ان کی مثالیں انہیں اپنی درسی کتابوں میں تلاش کرنا ہوتی ہیں۔ اس اسکول میں یہ خواتین روزانہ دو گھنٹے تک تعلیم حاصل کرتی ہیں اور اس طرح انہیں اپنی روزمرہ کی گھریلو زندگی کے علاوہ بھی کچھ کرنے کو ملتا ہے۔

ان خواتین میں سے کئی اب گنتی اور بہت سے بنیادی الفاظ لکھ پڑھ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اب کسی سرکاری یا قانونی کاغذ پر اپنی شناخت کے لیے اپنے انگوٹھے کا نشان نہیں لگاتیں۔ وہ اب اپنے نام لکھتی ہیں، جو قانونی طور پر ان کے دستخط ہوتے ہیں۔ ماضی کی کوئی ناخواندہ بزرگ خاتون کسی قانونی دستاویز پر دستخط کر سکے، یہ بات اس خاتون کے ذہن میں خود اپنی عزت بھی بڑھا دیتی ہے۔

دنیا بھر میں 78 کروڑ سے زائد انسان ناخواندہ

پاکستان کے آن لائن مدارس، منافع بخش کاروبار

اس اسکول کی ایک 55 سالہ ’طالبہ‘ یشودا کیدار نے سونیا پالنیکر کو بتایا، ’’پہلے میں اپنے بینک جا کر کوئی رقم جمع کرانے یا نکلوانے کے لیے کاغذات پر انگوٹھا لگاتی تھی۔ اب میں دستخط کرتی ہوں۔ یہ میرے لیے بڑی خوشی اور فخر کی بات ہے۔‘‘

یشودا کیدار کہتی ہیں، ’’میں نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں بھی کسی دن اسکول جاؤں گی۔ اب میری پوتی اسکول سے ملنے والا گھر کا کام کرنے میں میری مدد کرتی ہے۔ یہ سچ ہے لیکن یہ بات میرے لیے ابھی تک ناقابل یقین ہے۔‘‘

بھارت میں ناخواندگی سے متعلق ایک ملکی رپورٹ کے مطابق، جس میں درج حقائق کی اقوام متحدہ کی طرف سے بھی تائید کی جاتی ہے، بھارت دنیا کا وہ ملک ہے، جہاں ناخواندہ شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ تعداد 287 ملین یا قریب 29 کروڑ بنتی ہے۔

DW.COM