1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’’نانگا پربت‘‘ جرمن سینماؤں میں

پاکستان کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک ’’نانگا پربت‘‘ کے نام سے ایک فلم اِن دنوں جرمن سینماؤں میں دکھائی جا رہی ہے، جس میں تقریباً چالیس برس پہلے اِس پہاڑ پر پیش آنے والے ایک حقیقی ڈرامائی واقعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔

default

فلم ’’نانگا پربت‘‘ کا ایک منظر

اٹلی کے جرمن زبان والے علاقے جنوبی تِرول سے تعلق رکھنے والے رائن ہولڈ میسنر دُنیا کے نامور ترین کوہ پیما ہیں۔ دُنیا میں ایسی چوٹیوں کی مجموعی تعداد چَودہ ہے، جن کی بلندی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے اور رائن ہولڈ میسنر وہ پہلے انسان ہیں، جنہیں یہ تمام چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ معرکہ اُنہوں نے اُنیس سو ستر اور اُنیس سو چھیاسی کے درمیانی عرصے میں سر کیا۔

Film Nanga Parbat Joseph Vilsmaier

فلم کے ایک منظر میں کوہ پیمائی کرنے والے دونوں بھائی سخت سردی اور برف کا سامنا کرتے ہوئے

آج کل جرمن سینماؤں میں دکھائی جا رہی نئی فلم ’’نانگا پربت‘‘ میں اُس ڈرامائی واقعے کو موضوع بنایاگیا ہے، جس کے ساتھ ہی کوہ پیما کے طور پر رائن ہولڈ میسنر کے بے مثال کیریئر کا آغاز ہوا تھا۔ اِس فلم کا گہرا تعلق شمالی پاکستان کے آٹھ ہزار ایک سو پچیس میٹر بلند پہاڑ نانگا پربت سے ہے۔ دُنیا کی اِس نوِیں بلند ترین چوٹی کو دونوں بھائیوں نے ستائیس جون سن 1970ء کو مل کر سر کیا تھا لیکن چوٹی سے واپس آتے ہوئے راستے میں رائن ہولڈ میسنر کے بھائی گنتھر کا انتقال ہوگیا تھا۔ اِس مہم کے تقریباً چالیس برس بعد ہدایتکار یوزیف فِلس مائر نے اِس ڈرامائی مہم کو فلم کی صورت دی ہے۔

Nanga Parbat

دنیا کا دوسرا بڑا پہاڑ ’’نانگا پربت‘‘ شمال مغرب کی جانب سے

فلم کا آغاز اُس زمانے میں ہوتا ہے، جب رائن ہولڈ اور اُس سے عمر میں دو سال چھوٹا گنتھر ابھی تقریباً بچے ہیں لیکن اُن کے خواب بلند ہیں۔ دونوں بچے دُنیا کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا کرتے ہوئے اُنہیں زیادہ سے زیادہ مشکل راستوں سے گزر کر چوٹی پر پہنچنا پڑے تو پھر تو اور بھی اچھا ہے۔

Günther Messner, undatiert

گنتھر میسنر: انتقال نانگا پربت پر ہوا

اُنیس سو ستر میں رائن ہولڈ کی عمر پچیس سال تھی۔ نانگا پربت کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں: ’’رُوپل وال دُنیا کی بلند ترین دیوار ہے اور یہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج تھی۔ اکثر کوہ پیما اِس سیدھی اوپر کو جانے والی عمودی اور مشکل دیوار پر چڑھنے کی ناکام کوشش کر چکے تھے۔ ہم لیکن انتہائی مشکل حالات میں اِس دیوار پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر لیکن نیچے اُترتے ہوئے ہم اِس تباہ کن حادثے کا شکار ہو گئے۔‘‘

11.01.2010 DW-TV Kino Nanga Parbat

’’نانگا پربت‘‘ کا پوسٹر

پانچ سال پہلے رائن ہولڈ میسنر نے ہدایتکار فِلس مائر کو ایک خط لکھا اور پوچھا کہ آیا وہ دونوں مل کر اِس واقعے پر کوئی فلم بنا سکتے ہیں۔ فِلس مائر کو یہ تجویز اچھی لگی، اِس حوالے سے وہ کہتے ہیں:’’ٹی وی تو اُس زمانے میں تھا ہی نہیں، چنانچہ مَیں نے ریڈیو پر میسنر کی آواز سنی تھی۔ اُس زمانے میں کوئی کوہ پیما اتنی بلندچوٹی سر کرتا تھا تو آج کل کے مقابلے میں کہیں زیادہ چرچا ہوا کرتا تھا۔ مَیں میسنر کو محض نام سے جانتا تھا، کبھی ملا نہیں تھا۔ تو مَیں نے سوچا کہ مَیں اُنیس سو ستر کے اِس المناک واقعے پر میسنر کے ساتھ مل کر ضرور یہ فلم بناؤں گا۔“

یہ کوئی دستاویزی نہیں بلکہ ایک فیچر فلم ہے، جس میں بنیاد بہرحال حقیقی واقعات کو بنایا گیا ہے۔ اِس فلم میں پاکستان کی شدیدگرمی، شور اور سڑکوں کی رنگا رنگ لیکن ہنگامہ خیز زندگی کی بھی حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ فلم بلند و بالا پہاڑوں کے خوبصورت مناظرسے بھی سجی ہوئی ہے، جن کے حسن کو آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار گُستاوو سانتا اولالا کی دلکش دھنوں نے دوبالا کر دیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفےٰ