1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناموس رسالت، مجوزہ ترمیم کے خلاف مکمل ہڑتال

پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ناموس رسالت کے قانون میں مجوزہ ترامیم کے خلاف جمعہ کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ تمام بڑے شہروں میں بیشتر کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم نظرآئی۔

default

پاکستانی حکومت نے توہین رسالت کے حوالے سے بنا ئے جانے والے قانون میں کسی قسم کی ترمیم نہ کرنے کا واضح اعلان کرتے ہوئے اس ہڑتال کو نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس ہڑتال کی خاص بات یہ بھی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی تاجروں نے بھی اپنا کاروبار بند رکھا ۔ لاہور، پشاور اور کراچی سمیت متعدد شہروں میں تاجروں اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ ڈوئچےویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئےآل پاکستان انجمن تاجران کے قائم مقام صدر خالد پرویز نے بتایا کہ یہ ملک گیر ہڑتال مکمل طور پر کامیاب رہی۔ ان کے مطابق ہڑتال کا فیصلہ تاجروں کا اپنا تھا انہوں نے مذہبی یا سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔

Demonstration in Karachi Pakistan

حکومت پاکستان نے ہڑتال نہ کرنے کی اپیل کی تھی

یاد رہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ اس قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات اس قانون کا اقلیتی لوگوں کے خلاف غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان نے اپنی ذاتی حیثیت میں، قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا، جس میں ان کے بقول ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیریں رحمان نے کہا کہ ان کے لئے یہ بات دکھ کا باعث ہے کہ ان کی پارٹی اپنے موقف سے ہٹ گئی ہے۔ ان کے مطابق انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ بل واپس لینے پر تیار نہیں ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM