1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نامور پاکستانی اداکار معین اختر انتقال کر گئے

پاکستانی ٹیلی وژن، فلم اور اسٹیج کے نامور اداکار معین اختر کراچی کے ایک ہسپتال میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ اُن کی عمر 61 برس تھی۔

default

پاکستانی میڈیا میں معین کی خبر

معین اختر طویل عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا چلے آ رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اُنہیں جمعہ کی سہ پہر کو ہی تکلیف محسوس ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ صدارتی ایوارڈ یافتہ معین اختر ایک ہمہ صفت فنکار تھے، جنہوں نے 60ء کے عشرے میں ٹیلی وژن سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ تب اُنہوں نے پاکستان کے یومِ دفاع کے موقع پر چھ ستمبر 1966ء کو ایک ورائٹی شو میں شرکت کی تھی۔

وہ ٹی وی، فلم اور اسٹیج پر اداکاری کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرامے لکھتے بھی تھے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھے گلوکار، ایک فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بھی تھے۔ ٹی وی پر اُنہوں نے پروگراموں کی میزبانی بھی کی۔ انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ اُن کی ایک ٹیم بن گئی تھی، جسے ٹی وی ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔

حالیہ برسوں میں معین اختر کے ٹی وی پروگرام ’لُوز ٹاک‘ کو خاص طور پر شہرت ملی، جس میں وہ ہر بار کسی نئے روپ میں ناظرین کے سامنے آتے تھے۔ اِس دوران اُنہوں نے عام روزمرہ زندگی کے مخصوص کرداروں کے ساتھ ساتھ مشہور سیاستدانوں کا بھی بہروپ اختیار کیا اور زبردست داد پائی۔ 2005ء میں ایک نجی ٹی وی چینل پر شروع ہونے والے اس سلسلے کے مجموعی طور پر چار سو پروگرام پیش کیے گئے۔

اُن کے ٹی وی ڈرامے روزی کو، جس میں وہ ایک خاتون ٹی وی آرٹسٹ کے روپ میں سامنے آئے تھے، بے انتہا پسند کیا گیا۔ اُنہیں اُن کی فنی خدمات کے اعتراف میں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں ستارہء امتیاز بھی شامل ہے۔

24 دسمبر 1950ء کو پیدا ہونے والے معین اختر کو بہت سی زبانوں پر عبور حاصل تھا، جن میں انگریزی اور اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی، سندھی، پنجابی، گجراتی اور پشتو بھی شامل ہے۔ اُن کے انتقال پر فنکاروں کے ساتھ ساتھ تمام مکتبہ ہائے فکر کی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM