1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش

پاکستان میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو گرمیوں میں بھی سر کرنا انتہائی جان لیوا اور مشکل ترین چیلنج ہے لیکن اب روس کی ایک ٹیم سردیوں میں چوٹی سر کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

default

اب تک سردیوں میں دنیا کے کسی بھی کوہ پیما نے K2 کو سر نہیں کیا ہے۔ سردیوں میں دنیا کی اس دوسری بلند ترین چوٹی پر درجہ حرارت منفی 50 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ ہوا کی رفتار کم از کم 70 کلومیٹر فی گھنٹہ رہتی ہے۔ اس مہم جوئی میں پندرہ روسی کوہ پیما حصہ لے رہے ہیں اور ان کو چوٹی تک پہنچنے کے لیے دو ماہ تک کا عرصہ درکار ہو گا۔ کے ٹو پہاڑ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی اشرف امان کا اس بارے میں کہنا ہے، ’روسی ٹیم کے پاس یہ ایک موقع ہے کہ وہ یہ چوٹی سر کر سکتی ہے کیونکہ روس کی یہ ٹیم انتہائی مضبوط اور تجربہ کار ہے لیکن کامیابی کا انحصار صرف اور صرف موسم پر ہوگا‘۔

Ramin shojaei, broad peak Flash

کے ٹو کی بلندی آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر ہے

پاکستان کے چین سے ملحقہ اس علاقے میں سردیوں میں راتیں طویل اور دن مختصر ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گرمیوں کی نسبت سردیوں میں یہاں کا موسم دو گنا زیادہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں کوہ پیماؤں کو موسم میں مزید شدت کے سامنے کے ساتھ ساتھ زیادہ خوراک اور زیادہ سازوسامان کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

Ramin shojaei, broad peak

پاکستان کے چین سے ملحقہ اس علاقے میں سردیوں میں راتیں طویل اور دن مختصر ہو جاتے ہیں

کے ٹو کی بلندی آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر ہے اور یہ چین اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد یہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے، تاہم اسے ماؤنٹ ایورسٹ سے کہیں زیادہ خطرناک خیال کیا جاتا ہے۔

اس کی بلندی 8611 میٹر ہے۔ اسے دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے 31 جولائی 1954 کو پہلی مرتبہ سر کیا تھا۔

1856ء میں اس پہاڑ کا پہلی بار گڈون آسٹن نے سروے کیا۔ تھامس ماؤنٹ گمری بھی اس کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اس کا نام کے ٹو رکھا کیونکہ سلسلہ کوہ قراقرم میں یہ چوٹی دوسرے نمبر پر تھی۔ کے ٹو پر چڑھنے کی پہلی مہم سن 1902 میں ہوئی جو کہ ناکامی پر ختم ہوئی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM