1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نامعلوم افراد کا حملہ، ہزارہ کمیونٹی کے چار افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے ایک تازہ واقعے میں ایک ہی گھرانے کے چار افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے ان افراد کو قتل کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے کوئٹہ پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات رونما ہونے والے سے واقعے میں ایک بچہ بھی مارا گیا۔ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے اس گھرانے کو اس وقت نشانہ بنایا، جب وہ چمن سے کوئٹہ کی طرف سفر کر رہے تھے۔ شورش زدہ صوبے بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے خلاف یہ ایک نیا حملہ ہے۔ ماضی میں بھی اس کمیونٹی کے افراد کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پاکستان میں مشتبہ فرقہ ورانہ حملہ، چار ہزارہ شیعہ شہری قتل

کوئٹہ میں شیعہ خواتین قتل: لشکر جھنگوی العالمی بدستور سرگرم

افغان ہزارہ کمیونٹی سڑکوں پر، کابل میں کاروبار زندگی مفلوج

ویڈیو دیکھیے 03:07

پاکستان میں زندگی مشکل ہو گئی تھی، پاکستانی ہزارہ مہاجر حسین

پولیس اہلکار تنویر شاہ نے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ بلوچستان کے کوچلک نامی علاقے میں رونما ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔ 

گیارہ ستمبر بروز پیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ افراد پر مشتمل اس کنبے پر ہوئے حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

بلوچستان کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں اور یہاں طالبان کے علاوہ بلوچ علیحدگی پسند بھی فعال ہیں۔

تنویر شاہ کے مطابق اس حملے میں ایک بارہ سالہ لڑکا بھی ہلاک ہوا ہے۔

تنویر شاہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے ان افراد کو اس وقت نشانہ بنایا، جب ان کی گاڑی ایک پیٹرول اسٹیشن پر مختصر قیام کی خاطر کھڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں خود کار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ دو افراد شدید زخمی ہیں، جنہیں کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ گھرانہ اتوار کے دن ہی افغانستان سے چمن پہنچا تھا، جہاں سے یہ کوئٹہ کی طرف روانہ ہوا تھا۔

بلوچستان میں ماضی میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری داعش سے وابستہ مقامی گروہ یا دیگر مقامی سنی شدت پسند گروپ قبول کر چکے ہیں۔ ڈی پی اے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے اس صوبے کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے اور بلوچستان میں طالبان اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر فعال سنی جنگجو گروہ شیعہ کمیونٹی اور مقامی بلوچ قوم پرست گروپوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic