1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نامزد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو : ایک تعارف

اسرائیلی صدر شمون پیریز نے نیتن یاہو کو حکومت سازی کی باقاعدہ دعوت دے دی ہے۔ نیتن یاہو کو دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

default

نتین یاہو انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

اسرائیلی قوم پسند رہنما بین یامین نیتن یاہو فلسطینیوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں اورشائد یہی اسرائیل میں ان کی بہت زیادہ مقبولیت کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ نیتن یاہوامریکی لہجے میں روانی سے انگریزی بولتے ہیں اورامریکی ٹیلی ویژن چینلز پر سیاسی مباحثوں میں بھی اکثرمدعوکئے جاتے ہیں۔ سن 1996 میں جب وہ سربراہ حکومت بنے تو وہ اسرائیل کے اسرائیل ہی میں پیدا ہونے والے پہلے وزیر اعظم تھے۔

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں دائیں بازوکی طرف جھکاؤ رکھنے والے لیکوڈ بلاک کے سربراہ کے طور نیتین یاہو نے قادیمہ پارٹی کی خاتون سربراہ اور ملکی وزیر خارجہ زیپی لیونی کے خلاف بھر پورسیاسی مہم چلائی۔ اس وقت نیتن یاہو کی عمر 59 برس ہے اوران کا تعلق لیٹویا سے آ کر اسرائیل میں آباد ہونے والے ایک ایسے خاندان سے ہے جو عظیم تراسرائیل کے نظریے پریقین رکھتا ہے۔

Benjamin Netanyahu

نتین یاہو کو ایک سخت گیر موقف کا حامل سیاستدان سمجھا جاتا ہے

90 کی دہائی کے وسط میں جب بین یامین نیتن یاہواسرائیلی سربراہ حکومت بنے تھے تو اوسلو میں اسرائیل اورفلسطینیوں کے مابین طے پانے والے معاہدے کو ابھی صرف تین برس ہی ہوئے تھے۔ نیتن یاہو نے اس معاہدےاور اس سے قبل فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی سخت مخالفت کی تھی۔ لیکن جب وہ خود وزیراعظم بنے توانہیں بھی نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑے تھے بلکہ انہی کے دورحکومت میں اسرائیل کے شام کے ساتھ مذاکرات بھی عمل میں آئے تھے۔

نیتن یاہو دورمیں اسرائیل کے فلسطینیوں اورشام دونوں کے ساتھ بے نتیجہ ہی رہے تھے کیونکہ تب بھی نیتن یاہو کا مؤقف یہ تھا کہ اسرائیل نہ تو کبھی گولان کی پہاڑیوں سے دستبردار ہوگا اورنہ ہی یروشلم کی حیثیت سے متعلق کوئی مذاکرات کئے جائیں گے۔ کئی سیاسی مؤرخین یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ معاہدہ اوسلو کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ نیتن یاہوبنے۔

Benjamin Netanyahu

لیکوڈ پارٹی کے سربراہ نتین یاہو

سن 2003 میں جب لیکوڈ پارٹی دوبارہ آرئیل شارون کی سربراہی میں برسراقتدارآئی تو بین یامین نیتن یاہوکووزیرخزانہ بنا دیا گیا تھا لیکن جونہی آرئیل شارون نے غزہ پٹی کے علاقے میں قائم کردہ یہودی بستیاں خالی کرنے کی بات کی تو نیتن یاہواحتجاجا وزیرخزانہ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔


نیتن یاہو کے استعفے کے بعد اس دور کے وزیراعظم شارون نے قادیمہ پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنالی اورنیتن یاہو لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بن گئے۔ تب لیکوڈ پارٹی کے اس نئے سربراہ نے کہا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے جو ان کےخیال میں اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے۔

Ariel Scharon und Benjamin Netanyahu

جب آرئیل شارون وزیر اعظم بنے تو بین یامین نیتن یاہوکووزیرخزانہ بنا دیا گیا تھا

مزید کچھ عرصے بعد جب غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں حماس کی حکومت قائم ہوئی تو نیتن یاہو کا مؤقف یہ تھا کہ غزہ پٹی کا علاقہ ایک ایرانی اڈاہ ہے اور تل ابیب یا اشکلون کے کنارے ایسا کوئی ایرانی اڈہ قائم نہیں رہ سکے گا۔

بین یامین نیتن یاہوآج بھی خطے میں اسرائیل کی حریف طاقتوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اس کا اندازہ حالیہ انتخابات سے پہلے کی سیاسی مہم کے دوران ان کے اس بیان سے واضح طور پر ہوگیا تھا:'' مجھے یقین ہے کہ ہم جیتیں گے۔ لیکن ہم اس طرح جیتنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کودرپیش مسائل سے نمٹ سکیں ۔ میں بڑے مسائل کی بات کررہا ہوں، ایران کی اور حماس کی حکومت کی صورت میں اس اڈے کی بھی جو ابھی تک تباہ نہیں ہوا۔‘‘