1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نالندا یونیورسٹی، تعمیر نو کے راستے میں مشکلات حائل

دنیا کی قدیم ترین جامعات میں سے ایک بھارت کی نالندا یونیورسٹی کی تعمیر نو کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں مشکلات حائل ہیں۔ پانچویں صدی عیسوی کی یہ جامعہ سرمایے کی عدم دستیابی کے باعث مسائل کا شکار ہے۔

default

نوبل انعام یافتہ امرتیا سین

اس جامعہ کی تعمیر نو کے سلسلے میں سرمایہ جمع کرنے کا عمل سست روی سے دوچار ہے۔ گزشتہ برس اگست میں بھارتی پارلیمان نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اس جامعہ کو ریاست بہار میں اس کے اصل مقام پر ازسرنو تعمیر کیا جانا تھا۔

اس منصوبے کے حامی افراد کا خیال ہے کہ ایک دن اس جامعہ کے نئے کیمپس میں ہزاروں طلبہ کھینچے چلے آئیں گے، جیسے کئی صدیاں قبل آیا کرتے تھے۔ تاہم اس جامعہ کی عمارت کی تعمیر کے لیے ایک بلین ڈالر سرمایہ اکھٹا کرنے کا عمل اب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ اس پروجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے آسیان ممالک اور بھارتی حکومت کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔

Indien Parlament in New Delhi

بھارتی پالیمان نے گزشتہ برس اس منصوبے کی منظوری دی تھی

اس سلسلے میں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیا سین، جو اس پروجیکٹ کے روح رواں بھی ہیں، نے کہا کہ پہلی بار اس یونیورسٹی کے قیام میں دو سو برس کا وقت لگا تھا۔ ’’مجھے امید ہے کہ اس جامعہ کے نئے کیمپس کی تعمیر کے لیے طویل وقت درکار نہیں ہو گا۔‘‘

کانفرنس کے آغاز پر اپنے ابتدائی کلمات میں سین نے کہا کہ جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، تو اس بدھ تعلیمی مرکز نے علم کی روشنی پھیلانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ اس دور میں چین اور ترکی تک سے طلبہ حصول علم کے لیے اس جامعہ کا رخ کرتے تھے۔

علم و تہذیب کی گہوارہ یہ تاریخی عمارت اپنے اندر قدیم مندروں کا ایک بڑا وجود سمیٹے ہوئے تھی، تاہم 12 ویں صدی عیسوی میں مسلمان فاتحین نے اس جامعہ کو آگ لگا کر اسے خاکستر کر دیا تھا۔

کانفرنس میں شریک سنگاپورکے سابق وزیرخارجہ جارج یُو نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس جامعہ کو از سرنو تعمیر کر کے دنیا بھر کے لیے ایک ماڈل تعلیمی مرکز بنا دینے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM