1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’ناقابل علاج بیکٹیریا ایک عالمی وبا بن سکتا ہے‘

طبی محققین نے متنبہ کیا ہے کہ مہلک بیماریوں کے خلاف دفاع کے طور پر استعمال میں لائی جانے والی اینٹی بائیوٹک ادویات بتدریج بے ثر ہو رہی اورایسی ادویات کے خلاف بیکٹیریا یا جراثیم مدافعت پیدا کرتے جا رہے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ یہ صورتحال میڈیکل سائنس کی دنیا میں ہونے والی ترقی کو دوبارہ سے حقیقی سیاہ دور میں دھکیل دے گی، جہاں معالج E.Coli یا ایشیریا کُلی جیسے عام بیکٹیریاز یا نمونیا کا سبب بننے والے جراثیم K.Pneumoniae پر بھی قابو پانے میں ناکام ہو جائیں گے۔

اس بارے میں سامنے آنے والی ایک نئی مطالعاتی رپورٹ کے شریک مصنف اور چین کی Southern Agricultral University کے پروفیسر لیو جیان ہُوا کہتے ہیں،’’ یہ نہایت پریشان کُن نتائج ہیں‘‘۔

لیو اور ان کے ساتھیوں نے جین MCR-1 کی کھوج لگائی ہے جو بیکٹیریا یا مہلک جراثیم کو اینٹی بائیو ٹیکس کی ایک خاص قسم Polymyxins کے خلاف مزاحم بنا دیتے ہیں۔

Bildergalerie Wildnis Fotografie wildlife photography of the year 2015

سائنسدانوں نے جین MCR-1 کی کھوج لگائی ہے

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او پہلے ہی اس بارے میں انتباہ کرچُکا ہے کہ اینٹی مائیکروبائل مدافعت انسانوں کو ' اینٹی بائیوٹک یا بیکٹیریا کو ختم کرنے والے دور کے بعد والے عہد میں پہنچا دے گی اور یہ وہ زمانہ ہوگا جس میں چھوٹے انفیکشن یا زخم، ضرب یا خراش بھی مہلک یا جان لیوا ثابت ہو سکیں گے۔

اس تجزیاتی سائنسی تحقیق میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے چین کے دو صوبوں گوانگ ڈانگ اور ژیجیانگ میں درجنوں کے حساب سے فروخت ہونے والے سور اور مرغیوں سے لیے گئے E.Coli اورK.Pneumoniae سمپلز یا نمونوں کا معائنہ کیا گیا۔ ریسرچ کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ زندہ جانوروں کے سیمپلز میں ان بیکٹیریاز کی شرح 20 فیصد اور اُن کے حاصل ہونے والے کچے گوشت کے سیمپلز میں 15 فیصد پائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں سے لیے گئے 1,322 نمونوں میں بھی یہ جراثیم پائے گئے۔

Staphylococcus aureus MRSA

ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹیکس بہت جلد بے کار ہو جائیں گی

یہ بیکٹیریاز اب تک چین میں پائے جاتے تھے تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے کے دنیا بھر میں ان کے پھیلاؤ کے امکانات قوی ہیں۔ اس مطالعاتی جائزے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ہلکے انفیکشنز یقینی طور پر اینٹی بایئیوٹکس کے خلاف مدافعت کے حامل بیکٹیریاز جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے سے جنم لیتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ ’علاج پر آنے والے اخراجات میں زبردست اضافہ ہو جائے گا کیونکہ نئی اور زیادہ مہنگی ادویات کا استعمال کرنا پڑے گا اور مریض کو بیماری سے صحت یابی کے لیے طویل مدت تک ہسپتال میں بھی رہنا پڑے گا۔‘

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 ء میں کثیرالادویاتی مزاحمتی تپِ دِق (multi-drug resistant tuberculosis) یا ٹی بی کے شکار افراد کی تعداد 480 ہزار تھی جبکہ اسی سال ایک لاکھ نوے ہزار افراد اسی مرض کے سبب ہلاک ہو گئے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اینٹی بائیوٹیکس بہت جلد بے کار، بے اثر ہو جائیں گی۔

DW.COM