1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ناسا ماہرین کو بوکھلا دینے والی اڑن طشتری مذاق تھا

نوے کے عشرے میں بیلجیم کی فضاؤں میں بار بار دیکھی جانے والی مبینہ طور پر وہ پراسرار اڑن طشتری محض ایک مذاق تھا، جس نے امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ماہرین تک کو بوکھلا کے رکھ دیا تھا۔

default

برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ ’پرواز کرنے والی نامعلوم شے‘ یا Unidentified Flying Object دراصل فوم سے بنائی گئی اور بظاہر ایک اڑن طشتری نظر آنے والی ایک ایسی شے تھی، جس کی اصلیت کا اس ’مذاق کے محرک‘ نے اب اعتراف کر لیا ہے۔

اپریل سن 1990 میں تکونی شکل کی اس UFO کی پہلی تصویر مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکے نے بنائی تھی اور پھر بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ خلائی تحقیق کے ماہرین تک نے اس تصویر پر مختلف زاویوں سے کئی مختلف رنگوں کی روشنی ڈال کر اس کا تفصیلی معائنہ کرنے کی کوششیں بھی کی تھیں۔

یہ معاملہ سالہا سال تک ایک راز رہا۔ یہاں تک کہ منگل کی شام RTL-TVI ٹیلی وژن نیٹ ورک کے ایک پروگرام میں ایک شہری نے یہ اعتراف کر لیا کہ یہ اس کی کارستانی تھی۔ بیلجیم کے اس شہری نے اپنا نام پیٹرک بتایا ہے اور کہا ہے کہ جب اس نے ’اڑن طشتری والا مذاق‘ کیا تھا، تب اس کی عمر صرف 18 برس تھی۔

NASA Genesis

اڑن طشتری کی سیٹلائیٹ کے ذریعے تصویریں بنانے کی بھی کوشش کی گئی

پیٹرک نے کہا، ’’میں نے اور میرے چند دوستوں نے مل کر یہ ’اڑن طشتری‘ بنائی، فوم کاٹ کر، پھر اس پر رنگ کیا، اسے ایک دیوار پر لٹکایا اور اس کی تصویر کھینچی۔‘‘ تب یہ تصویر کسی مبینہ اڑن طشتری کی دو سال کے عرصے میں کھینچی گئی سب سے شفاف تصویر تھی۔ اس واقعے کے بعد بیلجیم میں ہزاروں شہریوں نے مختلف اوقات میں یہ دعوے بھی کیے تھے کہ انہوں نے آسمان پر ایسی ہی ایک اڑن طشتری کو اڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان واقعات نے امریکہ میں ناسا کے خلائی ماہرین تک کو مسلسل حیرانی میں ڈال دیا تھا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پیٹرک کے اس مذاق کے چند روز بعد بیلجیم میں ملکی فضائیہ کو یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ملکی فضائی حدود میں نظر آنے والی پراسرار اڑن طشتریوں کو مار گرایا جائے۔ تب ظاہر ہے کہ بیلجیم کی فضائیہ کے جنگی پائلٹوں کو اپنے اس مشن میں ایک بار بھی کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں نے بہرحال یہ ضرور کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ مبینہ خلائی اڑن طشتریاں دراصل Stealth طرز کے نظر نہ آنے والے وہ نئے جنگی طیارے تھے، جن کے نیٹو نے غیر اعلانیہ طور پر تجربات شروع کر دیے تھے۔

اس بارے میں پیٹرک نے کہا کہ تب ایک عام سے فوم کے ساتھ بنائے گئے اڑن طشتری کے ایک سستے سے ماڈل کے ساتھ لوگوں کو بیوقوف بنانا بہت آسان تھا۔ ’’لیکن اب میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سچ کیا ہے، یہ لوگوں کو بتا ہی دیا جائے۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس