1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نازی کیمپ کے مشتبہ گارڈ پر فرد جرم عائد

جرمنی میں نازی کیمپ کے ایک مشتبہ گارڈ پر ہولوکوسٹ کے دوران چار لاکھ سے زائد یہودیوں کے قتل میں معاونت کرنے اور دیگر دس کو گولی مارنے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

default

جرمنی کے مغربی شہر ڈورٹمنڈ میں ریاستی استغاثہ نے بتایا کہ نازی کیمپ کے مشتبہ گارڈ 88 سالہ سیموئیل کنُز کے خلاف الزامات دائر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کُنز پر 1942ء سے 1943ء کے دوران پولینڈ کے شہر لوبلن کے قریب قائم Belzec کیمپ میں چار لاکھ 30 ہزار یہودیوں کے قتل میں معاونت کرنے کا الزام ہے۔ یہ کیمپ بھی آپریشن رائین ہارڈ کے لئے قائم کیا گیا تھا جو بڑے پیمانےپر یہودیوں کے قتل کی خطرناک مہم کا ایک حصہ تھا۔

استغاثہ ترجمان کرسٹوف گوئکے نے کہا کہ کُنز پر دیگر دو واقعات میں دس یہودیوں کو گولی مارنے کا الزام بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کُنز کی عمر 21 سال سے کم تھی، اس لئے مقدمے کی سماعت ممکنہ طور پر عدالت کے ایک یوتھ چیمبر میں منعقد کی جا سکتی ہے۔ تاہم مقدمے کی سماعت کے لئے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ کُنز کا معاملہ یوکرائن کے John Demjanjuk کے خلاف تفتیش کے دوران سامنے آیا۔ جان کے خلاف مقدمہ گزشتہ برس میونخ میں چلایا گیا۔ ان پر ہولوکوسٹ کے دوران 27 ہزار 900 یہودیوں کے قتل میں معاونت کا الزام تھا۔ جان کی طرح کنُز سوویت یونین کے علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور ریڈ آرمی میں کام کر چکے تھے۔ وہ گرفتاری کے بعد کیمپ گارڈ بن گئے تھے۔

نازی دَور میں جنگی جرائم میں ملوث افراد کے لئے سائمن ویزینتھال سینٹر کی فہرست پر کُنز تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس سینٹر کا کہنا ہے کہ کُنز کے خلاف الزامات سے یہودیوں کے قتل عام میں ملوث افراد کو سزا دیے جانے کا پیغام ملتا ہے۔

ہولوکوسٹ کے حوالے سے قبل ازیں جرمن تفتیش کاروں کی توجہ آفیسر سطح کے اہلکاروں پر تھی۔ کُنز کے طویل عرصے تک منظر عام پر نہ کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ آفیسر نہیں تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنگ کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات