1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نازی مجرم آئشمن کے خلاف مقدمے کے پچاس برس

گیارہ اپریل پیر کے روز ہولناک جرائم کے مرتکب نازی رہنما اڈولف آئشمن کے خلاف اسرائیل میں اس مقدمے کے ٹھیک پچاس سال پورے ہو جائیں گے، جس نے ہولو کاسٹ کے بارے میں لوگوں کی رائے ہی بدل دی تھی۔

default

پچاس برس قبل یروشلم میں آئشمن کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران لی گئی ایک تصویر

اپریل سن 1961 میں اسرائیل میں عبوری طور پر قائم کیے گئے ایک کمرہء عدالت میں کارروائی کا مشاہدہ کرنے والوں کی نظروں میں ملزم ایک عام سا شخص نظر آتا تھا۔ اس کا نازیوں کی اس کوشش کے ساتھ کوئی تعلق قائم کرنا بظاہر مشکل معلوم ہوتا تھا، جو جرمنی میں حکمران قوم پسند سوشلسٹوں نے یورپ سے یہودیوں کے خاتمے کے لیے شروع کی تھی۔

اڈولف آئشمن کو اسرائیلی خفیہ سروس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا اور اسے اس لیے یروشلم لایا گیا تھا کہ اس کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں مقدمہ چلایا جا سکے۔ اس مقدمے کے مستغیثِ اعلیٰ گیڈییون ہاؤسنر تھے۔

ہاؤسنر اس مقدمے کی تیاری میں اتنے مصروف تھے کہ انہیں آئشمن کی ذات میں اس کی اصل شناخت کے علاوہ اور کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ یعنی نازی دور میں یہودیوں کے قتل عام کا منتظم اعلیٰ، جس نے چھ ملین یہودیوں کے قتل کی نگرانی کی۔ ایک سرکردہ نازی رہنما کے طور پر اڈولف آئشمن گرفتار کیے گئے یہودیوں کو اذیتی کیمپوں میں بھجوانے کا ذمہ دار تھا۔

Auschwitz Soundgalerie Flash-Galerie

آؤشوٹس کے نازی اذیتی کیمپ کے ہزاروں قیدی، فائل فوٹو

دوسری عالمی جنگ کے بعد آئشمن جرمنی سے فرار ہو کر ارجنٹائن چلا گیا تھا، جہاں اسرائیلی خفیہ سروس نے مئی 1960 میں اس کا پتہ چلا لیا تھا اور پھر اسے گرفتار کر کے اسرائیل پہنچا دیا گیا تھا۔

آئشمن کے خلاف مقدمے میں اپنا اولین بیان دیتے ہوئے استغاثہ کی طرف سے ہاؤسنر نے کہا تھا، ’’میں یہاں اکیلا نہیں کھڑا۔ میرے ساتھ چھ ملین ایسے مدعی بھی ہیں، جو یہاں کھڑے ہو کر اپنی انگلیوں سے آئشمن کی طرف اشارہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ ان کی راکھ آؤشوِٹس کی پہاڑیوں پر اور پولینڈ کے جنگلوں میں بکھر چکی ہے۔‘‘

ہاؤسنر کی بیٹی تامی ہاؤسنر راوے کے مطابق ان کے والد نے آئشمن کے خلاف جس مقدمے کی پیروی کی، وہ صرف ایک نازی جنگی مجرم کو سزا دلوانے کے لیے چلائے جانے والے مقدمے سے کہیں زیادہ تھا۔ تامی ہاؤسنر راوے نے ابھی حال ہی میں جرمن خبر ایجنسی DPA کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اس مقدمے میں مستغیث اعلیٰ کے طور پر ان کے والد کا ایک 'عوامی تعلیمی‘ مقصد بھی تھا۔

Adolf Eichmann in SS Uniform

اڈولف آئشمن کی ایک SS آفیسر کے طور پر لی گئی تصویر، فائل فوٹو

تامی نے آئشمن کے خلاف مقدمے کے سلسلے میں اپنے والد کے مقاصد کے حوالے سے کہا، ''وہ دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ نازی دور میں کیا کچھ ہوا۔‘‘ تامی ہاؤسنر راوے کے بقول دوسری عالمی جنگ کے بعد نیوریمبرگ میں چلائے جانے والے مقدمات میں زیادہ تر ہولو کاسٹ کا دستاویزی ریکارڈ تیار ہوا تھا اور یہ مقدمات فاتح قوتوں کی ہار جانے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی تھی۔ لیکن اس کے برعکس اسرائیل میں آئشمن کے خلاف مقدمہ ایک ایسی عدالتی کارروائی تھا، جس میں مظلوموں نے ظالموں کے ساتھ انصاف کیا۔

آئشمن کے خلاف کارروائی کے دوران گواہوں کے بیانات سنتے ہوئے اسرائیلی عوام سکتے کی حالت میں آ جاتے تھے۔ اس مقدمے میں عدالت نے بہت سے عینی شاہدین سے یہ تفصیلات سنی تھیں کہ کس طرح ان کے والدین، بچوں اور بہن بھائیوں کو قتل کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے بعد ہاؤسنر سیاست میں بھی آ گئے تھے، جس دوران 1990 میں اپنے انتقال سے پہلے وہ اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر بھی بن گئے تھے۔ ہاؤسنر کی بیٹی کے مطابق آئشمن کے خلاف مقدمے نے ان کے والد کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی پوری زندگی ہولو کاسٹ کے المیے کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے وقف کر دی تھی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس