1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نازیہ حسن کو ابدی نیند سوئے پندرہ سال بیت گئے

تیرہ اگست کو پاکستان کی مایہ ناز پوپ گلوکارہ نازیہ حسن کی پندرہویں برسی منائی جا رہی ہے۔ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا رہیں اور بالآخر اس موذی مرض کے خلاف اپنی جنگ ہارتے ہوئے تیرہ اگست سن 2000ء کو انتقال کر گئیں تھیں۔

Nazia and Zoheb Hassan Archiv

نازیہ حسن نے اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر 1981ء میں ’ڈِسکو دیوانے‘ کے نام سے اپنے گیتوں کا ایک یادگار البم ریلیز کیا

اس سال اپریل میں اُن کا پچاس واں یومِ پیدائش بھی منایا گیا تھا۔ وہ تین اپریل 1965ء کو پاکستانی بندرگاہی شہر کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ اسکول ہی کے زمانے میں وہ پاکستان ٹیلی وژن کراچی کے بچوں کے پروگرام ’کلیوں کی مالا‘ میں جلوہ گر ہونے لگی تھیں۔ اسی پروگرام میں اُنہوں نے دَس سال کی عمر میں 1975ء میں بچوں کا مشہور گیت ’دوستی ایسا ناتا‘ گایا تھا۔

بھارتی فلم ’قربانی‘ کے لیے اُن کے گیت ’آپ جیسا کوئی‘ کو اُس وقت شہرت حاصل ہوئی تھی، جب اُن کی عمر ابھی صرف پندرہ برس تھی۔ کون جانتا تھا کہ اس گیت کے لیے اُنہیں فلم فیئر ایوارڈ ملے گا اور وہ یہ ایوارڈ پانے والی پہلی پاکستانی شہری ہوں گی۔ بھارت میں بھی اُنہیں بے مثال شہرت حاصل رہی اور جریدے ’انڈیا ٹوڈے‘ نے اُنہیں ایسی چوٹی کی پچاس شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا، جنہوں نے بھارت کا چہرہ بدل کے رکھ دیا۔

اس کے بعد گلوکارہ کے طور پر اُن کے ایک شاندار کیریئر کا آغاز ہوا، جس کے دوران اُن کے گیتوں کے کئی البم منظرِ عام پر آئے۔ اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر نازیہ حسن نے 1981ء میں ’ڈِسکو دیوانے‘ کے نام سے اپنے گیتوں کا ایک یادگار البم ریلیز کیا۔ اس کے بعد 1984ء میں ’بُوم بُوم‘ اور ’ینگ ترنگ‘، 1987ء میں ’ہاٹ لائن‘ اور بالآخر 1992ء میں ’کیمرا کیمرا‘ کے نام سے البم منظرِ عام پر آئے۔ نازیہ اور زوہیب دونوں نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ یہ اُن کا آخری البم ہو گا۔

ایک فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بے حد انسان دوست بھی تھیں اور انسانی بھلائی کے کاموں میں بھی شرکت کرتی رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ موسیقی سے ہونے والی ساری آمدنی کراچی کی پسماندہ بستیوں میں بسنے والے بچوں، محروم نوجوانوں اور غریب خواتین کی بہبود کے پروگراموں پر خرچ کرتی رہیں۔

وہ نیویارک میں سیاسی تجزیہ کار کے طور پر بھی اقوامِ متحدہ سے بھی منسلک رہیں اور 1991ء میں اُنہیں پاکستان کے لیے ثقافتی سفیر مقرر کیا گیا۔

Indien Sängerin Zeenat Aman

ششی کپور کے ساتھ یہ ہیں زینت امان، جن پر 1980ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’قربانی‘ کا نازیہ حسن کی آواز میں گایا گیا گیت ’آپ جیسا کوئی‘ فلمایا گیا تھا

نازیہ حسن کی شادی ایک بزنس مین مرزا اشتیاق بیگ کے ساتھ 1995ء میں ہوئی اور 1997ء میں اُنہوں نے ایک بیٹے عریض حسن کو جنم دیا تھا۔

اُن کا پھیپھڑوں کے سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو جانا اُن کے مداحوں کے لیے ایک بڑے دھچکے کے مترادف تھا۔ اُن کی ازدواجی زندگی بھی مشکلات سے دوچار رہی اور انتقال سے صرف دَس روز قبل اُن کے شوہر نے اُنہیں طلاق دے دی تھی۔

نازیہ حسن کی زندگی کے آخری سال کینسر کے خلاف لڑتے لڑتے گزرے۔ بالآخر وہ یہ جنگ ہار گئیں اور صرف پینتیس برس کی عمر میں تیرہ اگست 2000ء کو لندن میں انتقال کر گئیں۔ اپنے خوبصورت گیتوں کی وجہ سے وہ اپنے پرستاروں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔