1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نازیوں کے خلاف اقدامات میں جرمنی کا ’اے‘ گریڈ

دنیا بھر میں نازیوں کو عدالت کے کٹہرے تک لانے کے لئے سرگرم ادارے Simon Wiesenthal نے اس ضمن میں جرمن حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے A گریڈ دیا ہے۔

default

یہ تنظیم ہر سالانہ بنیادوں پر ایک رپورٹ کارڈ جاری کرتی ہے۔ جمعرات کو اعلان کردہ نتائج کے مطابق جنگی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات اور عدالتی چارہ جوئی کی ضمن میں جرمنی کو زیادہ سے زیادہ درجے دیے گئے ہیں۔

اس طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بعد جرمنی وہ واحد ملک بن گیا ہے جسے A گریڈ دیا گیا ہے۔

Demonstration rechter Gruppierungen in Wien,Österreich

8 مئی 1945 کو نازی فوج نے اتحادی افواج کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے تھے، اس دن کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب کا منظر

اس تنظیم کا صدر دفتر لاس اینجیلس میں ہے۔ اسرائیل میں قائم اس کے دفتر سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’ اس سال پہلی مرتبہ امریکہ کے بشمول ایک دوسرے ملک ’جرمنی‘ کو سب سے زیادہ درجے دئے جارہے ہیں۔‘‘

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ، ’’ گزشتہ سال کے دوران جرمن حکومت نے اس ضمن میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اپنے یہاں عدالتی پالیسی میں ایسی تبدیلیاں متعارف کروائیں، جو نازیوں سے ان کے جنگی جرائم کا حساب کتاب کرنے کے معاملے میں اہمیت کی حامل ہیں۔‘‘

اگرچہ گزشتہ برس امریکہ میں کسی نازی کو سزا نہیں سنائی گئی تاہم اس ضمن میں واشنگٹن کی دائمی پالیسیوں کو اس کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ Simon Wiesenthal کے مطابق امریکہ میں دو مشتبہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی جبکہ پانچ دیگر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے ذمہ کا کام تقریبا مکمل کرلیا ہے۔

Jahresrückblick 2005 Januar Auschwitz Jahrestag

نازی دور کے ایک کنسنٹریشن کیمپ کا منظر

اسی تناظر میں اس تنظیم نے دنیا کے نو ایسے ممالک کو ’فیل‘ قرار دیا ہے جو یہودیوں کے خلاف نازیوں کے جرائم کا حساب کتاب کرنے میں ناکام رہیں۔ تنظیم کے مطابق شام نظریاتی طور پر سابق نازیوں کے خلاف کارروائی سے اجتناب برت رہا ہے جبکہ سویڈن اور ناروے کی حکومتوں کا اختیار محدود ہے۔

اسی طرح آسٹریلیا، کینیڈا، ایسٹونیا، ہنگری، لتھوانیا اور یوکرین کو ایسے ممالک قرار دیا گیا ہے جو ہولوکاسٹ کے ملزمان کے خلاف اقدامات کرنے کی نظریاتی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم ابھی تک ناکام ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM