1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناریل کی شدید قلت: درختوں کی کٹائی پر پابندی

سری لنکا میں حکام نے ناریل کے درختوں کو گرانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کولمبو حکومت نے یہ اقدام ملک میں ناریل کی شدید قلت کے پیش نظر کیا ہے۔

default

بھارت میں بھی ناریل کی کاشت عام ہے

ناریل کا شمار سری لنکا کی غذائی ثقافت کی اہم ترین اشیائے خوردنی میں ہوتا ہے۔ حکومت نے پہلی بار ناریل کی شدید کمی کے باعث اس کی بر آمد پر پابندی کے احکامات بھی جاری کر دئے ہیں۔ ناریل کی کاشت کے نگران وزیر جگتھ پشپا کمار نے کہا کہ حکومت نے ناریل کے درختوں کو کاٹنے کے عمل کو غیر قانونی اس لئے قرار دیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سری لنکا میں مقامی سطح پر ناریل کی کاشت میں مستقل کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پشپا کمار نے کہا، ’ہم نے ناریل کے درختوں کی کٹائی پر پابندی کا اعلان جاری کر دیا ہے اور ساتھ یہ احکامات بھی کر دئے گئے ہیں کہ ان قوانین پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے‘۔

Neujahr in Sri Lanka

سری لنکا میں منایا جانے والا سال نو کا جشن

سری لنکا میں حکام نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ قومی غذائی ثقافت کے ایک لازمی جز کی حیثیت رکھنے والے اس پھل کی قلت نے ملکی سیاست پر سنگین اثرات مرتب کئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیائی ملک سری لنکا میں ناریل کا بحران ماضی میں کئی حکومتوں کے زوال کا باعث بھی بن چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے حکومت کی طرف سے تمام سرکاری اسٹورز پر ایک ناریل کی قیمت 30 روپے، جو کہ 27 امریکی سینٹ کے برابر بنتے ہیں، مقرر کی گئی تھی۔ اس قیمت پر بکنے والے ناریلوں کا اسٹاک دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ سے ختم ہو گیا، جو بعد ازاں دگنے داموں پر بلیک مارکیٹ میں بیچا گیا۔

دریں اثناء سری لنکا کی وزارت تجارت نے بھارت سے ناریل درآمد کرنے کے احکامات جاری کر دئے ہیں حالانکہ روایتی طور پر ناریل بھی سری لنکا کی مشہور زمانہ اور اعلیٰ معیار کی حامل چائے اور ربر کی طرح ایک اہم برآمدی جنس سمجھا جاتا تھا۔ تاہم ناریل کی پیداوار اور برآمد کو شدید نقصان ملک میں جگہ جگہ شروع کئے جانے والے تعمیراتی منصوبوں سے پہنچا۔ اس کے علاوہ ناریل کا استعمال اس قدر بڑھ گیا کہ اس کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔

Kokos Nüsse

سری لنکا کی برآمدات کا ایک اہم جُز ناریل ہے

سال رواں کے اوائل میں سری لنکا میں ناریل کی کاشت کے نگران Coconut Cultivation Board نے سیاحت کے لئے مشہور علاقے Weligama میں پائے جانے والے درختوں میں ایک بیماری کے پھیلنے کے سبب چار لاکھ درخت کٹوا دئے تھے۔ اس کے علاوہ Hambantota میں 20 ہزار Galle میں 80 ہزار اور Matara کے قصبوں سے دو لاکھ پچاسی ہزار ایسے درختوں کو کٹوا دینے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا تھا، جن کو کیڑا لگ چکا تھا۔ حکومت نے ہر ایک درخت کے معاوضے کے طور پر 2000 روپے ادا کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ بیمار ہو جانے والے ناریل کے درختوں کی ملک بھر سے کٹائی کی مہم پر 750 ملین روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس