1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ناروے کے وزیر اعظم کی حمایت بڑھ گئی، جائزہ

ناروے میں دہرے دہشت گردانہ حملے میں 76 افراد کی ہلاکت کے ملزم آندرس بیہرک بریوک کی خواہش کے برعکس وہاں کی حکمران لیبر پارٹی اور اس کے وزیر اعظم کی عوامی مقبولیت میں بہت بڑی حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

default

ناروے کی لیبر پارٹی سماجی جموریت کے اصولوں پر مبنی سیاست کرتی ہے اور موجودہ حکمران اتحاد کی اہم جماعت ہے۔ ناروے کے معتبر روزنامے Dagbladet میں چھپنے والے تازہ جائزے کے مطابق لیبر پارٹی کے وزیر اعظم شٹولٹن برگ کی حمایت میں ریکارڈ گیارہ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ ناروے میں اگلے ماہ کی 12 تاریخ کو مقامی انتخابات ہوں گے جبکہ پارلیمانی انتخابات 2013ء میں ہوں گے۔

براعظم یورپ کے شمال مغرب میں واقع ناروے کا شمار خطے کے کامیاب کثیر الثقافتی ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ یورپ میں مسلمانوں اور دیگر عقائد و خطوں سے تعلق رکھنے والوں کی موجودگی کے مخالف دائیں بازوں کے کٹر حلقوں کو یہی بات سخت ناپسند ہے۔ بریوک نے لیبر پارٹی کی اُن پالیسیوں سے اختلاف ظاہر کیا ہے جو اس یورپی ملک میں تارکین وطن، بالخصوص مسلمانوں کے انضمام سے متعلق ہیں۔

22 جولائی کو بریوک کے دہشت گردانہ حلموں کا مرکزی ہدف بھی لیبر پارٹی تھی۔ بریوک نے پہلے اوسلو کے قلب میں واقع اس جماعت کے دفتر کے باہر زور دار کار بم دھماکہ کیا اور بعد میں اس تنظیم سے وابستہ نوجوانوں کے ایک سیاحتی میلے میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ گرفتاری کے بعد اس 32 سالہ ملزم نے اپنے عدالتی بیان میں اعتراف کیا کہ اس کی کارروائی کا ایک مقصد لیبر پارٹی میں لوگوں کی شمولیت کے رجحان کو کم کرنا تھا۔

Flash-Galerie Norwegen Anders Behring Breivik Gericht Anschlag Terror

آندرس بیہرک بریوک

ناروے میں دائیں بازو کی ترقی پسند جماعت کی مقبولیت میں تین پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔ بریوک 2006ء تک اسی جماعت کا کارکن رہ چکا تھا۔ اس پارٹی کی رہنما Siv Jensen نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت بریوک کے نظریات کی بالکل بھی حمایت نہیں کرتی۔

دوسری جانب فرانس میں دائیں بازوں کی جماعت Far-right National Front کے بانی ژاں ماری لیپے نے الزام عائد کیا ہے کہ لیفٹ کی چند پارٹیاں گھناونے انداز میں موجودہ صورتحال سے ناجائز سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM