1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ناروے کے مسلمان مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ

یہ ناروے میں ہلاک شدگان کی یاد میں منعقد ہونے والی سوگوار تقریب ہے۔ ایک مقامی نوجوان آگے بڑھ کر عراق میں پیدا ہونے والی ایمان الکوفی سے گلے ملتا ہے اور کچھ بولے بغیر دکھی انداز میں ہجوم میں غائب ہوجاتا ہے۔

default

اس نامعلوم سفید فام نوجوان کا یہ عمل دراصل پر تو ہے ناروے کے عوام کے ان احساسات کا جو اس سکینڈے نیوین ملک کے عوام مسلمان تارکین وطن کے لیے اس وقت محسوس کر رہے ہیں۔ ایمان الکوفی کی ایک دوست اٹویا جزیرے پر ہونے والی فائرنگ میں تین گولیاں لگنے کے باعث ابھی تک انتہائی نگہداشت میں ہے، جبکہ اس کا ایک اور عراقی دوست اس فائرنگ میں ہلاک ہوگیا۔کوفی ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچی تھیں۔

19 سالہ کوفی اور ان کی طرح کے دیگر مسلمان تارکین وطن کا تاہم کہنا ہے کہ اگر ناروے کی تاریخ کے بدترین جرائم میں سے ایک اس جرم کے پیچھے اگر دائیں بازو کے نظریات اور مسلم مخالف آندرس بیہرنگ بریوک کی بجائے کسی مسلمان کا ہاتھ ہوتا تو شاید ان کے ساتھ لوگوں کا رویہ بالکل ہی مختلف ہوتا۔ کوفی کہتی ہیں: ’’اگر یہ مسلمان ہوتا، تو لوگ اس کے لیے تمام غیر ملکیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے اور ہم سب سے نفرت کا اظہار کرتے۔‘‘

اوسلو میں بم دھماکے اور قریبی جزیرے اوٹویا پر فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر کم از کم 76 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری 32 سالہ بریوک نے قبول کی تھی

اوسلو میں بم دھماکے اور قریبی جزیرے اوٹویا پر فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر کم از کم 76 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری 32 سالہ بریوک نے قبول کی تھی

جمعہ 22 جولائی کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بم دھماکے اور پھر قریبی جزیرے اوٹویا پر نوجوانوں کے ایک کنونشن میں فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر کم از کم 76 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان دونوں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری 32 سالہ بریوک نے قبول کی تھی۔

ناروے میں مقیم مسلمانوں کے مطابق وہ دکھ کی اس گھڑی میں اپنے مسیحی ہم وطنوں کے ساتھ ہیں۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ناروے کے ہر شہری کی طرف سے ان حملوں کی مذمت کی جارہی ہے اس بات سے قطع نظر کہ اس کا تعلق کس مذہب یا کس علاقے سے ہے۔ لوگوں کی طرف سے امید ظاہر کی جارہی ہے کہ ملک میں جاری اتحاد کی یہ فضا مستقبل میں بین المذاہب تعلقات میں بھی بہتری کا سبب بنے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: کِشور مُصطفیٰ

DW.COM