1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ناروے کے تعلیمی ادارے: چہرے کے پورے نقاب پر پابندی کا فیصلہ

ناروے کی حکومت نے ایک ایسا مسودہ قانون پارلیمان میں پیش کر دیا ہے، جس کے تحت چھوٹے بچوں کی نرسریوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں چہرے کے پورے نقاب پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ملکی دارالحکومت اوسلو سے منگل تیرہ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق حکومت نے یہ تجویز پیر بارہ جون کی شام کو پیش کی اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بچیوں اور خواتین کی طرف سے پورے چہرے کے نقاب کا استعمال طالبات اور اساتذہ کے مابین بہتر ابلاغ کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ایسا نقاب استعمال کرنے کا رجحان صرف مسلمان بچیوں اور خواتین ہی میں پایا جاتا ہے۔

آسٹریا: قرآن کی تقسیم اور برقعے پر پابندی عائد کر دی گئی

جرمنی، مکمل نقاب پر پابندی کا مجوزہ قانون منظور

بانقاب عورت کو بس میں بٹھانے سے انکار، ڈرائیور کے خلاف مقدمہ

ناروے میں اس وقت قدامت پسندوں اور تارکین وطن کی آمد کی مخالف دائیں باز وکی جماعتوں پر مشتمل ایک مخلوط حکومت اقتدار میں ہے۔ اس حکومت نے گزشتہ برس ملکی ووٹروں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد ہی شمالی یورپ کی اس ریاست میں پورے چہرے کے نقاب اور پورے جسم کو ڈھانپنے والے برقعے کے استعمال پر پابندی لگا دے گی۔

ناروے کے وزیر برائے تعلیم و تحقیق توربژورن روئے ایزاکسن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہم نہیں چاہتے کہ ناروے کی نرسریوں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ایسے لباس پہنے جائیں، جو پورے چہرے کو ڈھانپ دیتے ہوں۔‘‘

وزیر تعلیم نے کہا، ’’اس طرح کا لباس اس اچھے ابلاغ کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، جو طالبات کے لیے اچھی تعلیم کے حصول کے لیے ضروری ہے۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق اوسلو حکومت کا یہ ارادہ بھی ہے کہ اگلے چند ماہ کے دوران اس بارے میں ان شہریوں کے نمائندہ گروپوں سے مشورے بھی کیے جائیں گے، جو اس مسودہ قانون کی ممکنہ منظوری کے بعد اس سے متاثر ہوں گے۔

ملکی میڈیا کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ اوسلو حکومت کو اس قانون سازی کے لیے اکثر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی اور یہ قانون اگلے برس موسم بہار میں منظور کر لیا جائے گا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ناروے میں بلدیاتی سطح پر مقامی حکومتوں کو یہ اختیار پہلے ہی سے حاصل ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام کام کرنے والے اسکولوں میں نقاب اور برقعے پر پابندی لگا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ناروے میں اب تک کوئی یکساں قومی پالیسی نہیں ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ مجوزہ قانون کی منظوری کے بعد جو افراد اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے، ان کے خلاف سزا کے طور پر کس طرح کے اقدامات کیے جا سکیں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات