1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ناروے سب سے پر مسرت ملک ہے‘

خوشی کے ورلڈ انڈیکس کے مطابق ناروے کے لوگ سب سے زیادہ خوش رہنے والے ہیں۔ ایک سال قبل اس انڈیکس پر سب سے پرمسرت ملک ڈنمارک تھا۔

مسرت کے عالمی انڈیکس کے مرتبین کا خیال ہے کہ اگر دولت سے خوشیاں خریدی جا سکتیں تو امریکا سب سے پرمسرت ملک ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ حکومتی پالیسیاں انسانی مسرت کا تعین کرنے میں اہم ہیں۔ امریکا کو چودہویں پوزیشن حاصل ہے۔

ناروے کو زمین پر خوش آباد رہنے والوں کا ملک قرار دینے کی بنیادی وجہ معاشی نظام اور صحت کا معیار ہے۔ اسی طرح اس ملک کے لوگ پراعتماد ہونے کے علاوہ روزمرہ زندگی میں انتخاب کے آپشن بھی زیادہ رکھتے ہیں۔ کئی برسوں سے مسرت کے عالمی انڈیکس پر پہلی پوزیشن کا حامل ملک اب دوسرے مقام پر چلا گیا ہے۔ آئس لینڈ کو تیسری اور سوئٹزرلینڈ کو چوتھا مقام دیا گیا ہے۔

 مسرت کے اس انڈیکس میں امریکا سے اوپر اسرائیل بھی ہے، جسے علاقائی تنازعے کا سامنا ضرور ہے لیکن اُس کی عوام دوست داخلی پالیسیوں کی وجہ سے گیارہواں مقام ملا ہے۔ نئی رپورٹ میں ٹاپ ٹین ممالک میں سات کا تعلق براعظم یورپ سے ہے۔ جرمنی کو خوش آباد رہنے والے ملکوں میں سولہواں مقام دیا گیا ہے۔

Symbolbild | biertrinkende Jugendliche (Colourbox)

لوگوں کی مسرت کا تعلق حکومتوں کی عوام دوست پالیسیوں سے جوڑا گیا ہے

ٹاپ ٹین ملکوں میں تین ملک ایسے ہیں جو یورپی نہیں ہیں اور ان میں شمالی امریکی ملک کینیڈا ساتویں پوزیشن پر ہے اور آسٹریلیا کو آٹھواں مقام حاصل ہے جب کہ نیوزی لینڈ کو نویں پوزیشن دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی جاتی ہے اور اس کو عالمی پائیدار ترقی پر نگاہ رکھنے والا ایک ادارہ (Sustainable Development Solutions Network) مرتب کرتا ہے۔ 

مسرت کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کو بانویں پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ اس مناسبت سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عوام کے اندر اعتماد کا فقدان ہونے کے علاوہ سماجی امداد کی سطح بھی انتہائی کم ہے۔ اسی طرح فرد کو اپنی مرضی کے انتخاب میں بھی مواقع کم حاصل ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستانی معاشرے میں روادادی و فراخدلی کی شرح بھی کم ہے اور عام لوگوں کو صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

سارک خطے میں پاکستان کو ٹاپ پوزیشن حاصل ہے جب کہ دوسری پوزیشن سری لنکا (عالمی انڈیکس میں 117 ویں) اور بھارت کا مقام تیسرا جب کہ عالمی درجہ بندی میں یہ ایک سو اٹھارواں ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان کی پوزیشن154 ویں ہے۔

اس رپورٹ کے مرتب کرنے والے ریسرچرز کے لیڈر کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات پروفیسر جان ہیلی ویل ہیں۔