1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

نادار بچوں کا ٹیچر محمد ایوب، ایک حقیقی ہیرو

محمد ایوب اسلام آباد کے ایک پارک میں گزشتہ بیس برسوں سے ایک ایسا اسکول چلا رہے ہیں، جہاں نادار اور بے سہارا بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ محمد ایوب کے بقول وہ پاکستان کے محروم طبقے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

محمد ایوب کے اوپن ایئر اسکول میں تعلیم حاصل کرنے زیادہ تر ایسے بچے جاتے ہیں، جن کے والدین پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے امراء اور ایلیٹ گھرانوں میں ملازمتیں کرتے ہیں۔ وہ بچے بھی اس اسکول میں اب تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن کے پاس اسکولوں کی بھاری فیسیں ادا کرنے کی اہلیت نہیں تھی اور وہ مقررہ وقت سے پہلے ہی اپنے بچپن سے الگ ہو کر مختلف کاموں میں مصروف ہو گئے تھے۔ ایوب کوئی تربیت یافتہ استاد نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنے والد سے کیے ہوئے ایک وعدے کو پورا کرنے کے لیے یہ بیڑہ اٹھایا ہے۔

ایوب کہتے ہیں کہ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی پاکستان کا مستقبل ثابت ہوں گے، ’’جو تعلیم یافتہ ہیں، انہیں بچوں اور ناخواندہ لوگوں کو ضرور اس زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اسلام آباد میں واقع مشہور کوثر مارکیٹ کے ساتھ ہی اپنے اسکول میں بیٹھے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو بچے ان کے اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اگر انہیں یہ مواقع نہ ملتا تو وہ کبھی بھی کسی اسکول نہ جا سکتے۔

محمد ایوب اپنے والد کے انتقال کے بعد 1976ء میں اپنے آبائی وطن منڈی بہاؤ الدین کو خیر باد کہہ کر اسلام آباد چلے آئے تھے۔ اس وقت ان کا مقصد اپنے سات بہن بھائیوں کی کفالت کرنا تھا۔ اسی دوران انہوں نے مختلف ملازمتیں کیں، اور آخر کار فائر فائٹر بن گئے۔ تاہم وہ بتاتے ہیں کہ انہیں اپنے والد سے کیا ہوا وہ وعدہ یاد تھا، جس میں انہوں نے خدمت خلق کی حامی بھری تھی۔ اپنے بہن بھائیوں کی تعلیم اور تربیت کی خاطر جو کڑا وقت ایوب خان نے گزارا، اس سے انہیں غربت کے حقیقی معنوں سے آشنائی ہو چکی تھی۔

ایوب کے مطابق وہ سڑکوں پر ناکارہ پھرتے، ورکشاپوں اور ہوٹلوں میں کام کرتے اور کوڑا کرکٹ جمع کرتے بچوں کو دیکھ کر دکھی ہوتے تھے۔ اس دوران انہوں نے ایسے بچوں کے والدین کو قائل کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ وہ ان بچوں کو مفت تعلیم حاصل کرنے کے لیے ان کے اسکول میں بھیجیں۔ یہ اس سفر کا آغاز تھا، جس کی کامیابی پر انہیں تمغہ حسن کارکردگی کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ ایوب نے کوشش جاری رکھی اور متعدد ہم خیال دوستوں کو ساتھ ملا کر کامیاب طریقے سے اسکول چلانے لگے۔

محمد ایوب نے ماضی کی تلخ یادوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں کچھ لوگوں نے انہیں جاسوس قرار دیا تو کچھ نے غیر ملکی ایجنٹ۔ تاہم ایوب کا حوصلہ متزلزل نہ ہوا۔ وہ اپنے والد کیے گئے ہوئے اپنے وعدے کو وفا کرنا چاہتے تھے۔ وہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ یہی دھن تھی کہ آہستہ آہستہ کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔ انہوں نے ایسے الزامات پر بھی کان نہ دھرے، جن میں ان کو مسیحی قرار دیا گیا بلکہ ان کے کام کی وجہ سے بعد میں یہی الزام عائد کرنے والے لوگ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔

بیس برس کی محنت کے بعد اب ان کا اسکول اسلام آباد میں کوثر مارکیٹ کے علاقے کا ایک اہم اسکول بن چکا ہے۔ اب اسکول میں دو سو پچاس کے قریب طالب علم رجسٹر ہو چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک محمد ایوب کو باقاعدہ طور پر کسی نے مالی تعاون فراہم نہیں کیا ہے۔ راہ چلتے ہوئے جب لوگ انہیں ایک پارک میں قائم ایک اسکول میں بچوں کی بڑی تعداد دیکھتے ہیں تو وہ کچھ کتابیں یا دیگر تعلیمی مواد عطیہ کر دیتے ہیں۔

محمد ایوب کے بقول البتہ اس اسکول کے فارغ التحصل بچے اب تک اپنی جڑوں کو نہیں بھولے ہیں۔ ایوب کے سابق طالب علم نہ صرف اب اسکول میں بچوں کو پڑھانے کے لیے آتے ہیں بلکہ مالی تعاون کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ تاہم محمد ایوب کبھی کبھار اس اسکول کے مستقبل کے بارے میں پریشان بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ پرعزم ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔