1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ناجائز اسلحہ‘: ریمنڈ ڈیوس کا نیا ریمانڈ

لاہور ہائی کورٹ نے آج جمعرات کو دو پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی سفارتی حیثیت سے متعلق جواب داخل کرانے کے لیے وفاقی حکومت کو مزید تین ہفتے کی مہلت دینے کی درخواست منظور کر لی۔

default

اسی دوران لاہور ہی میں ایک اور عدالت نے ناجائز اسلحہ رکھنے سے متعلق ایک مقدمے میں ریمنڈ ڈیوس کو جمعرات کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ وفاقی حکومت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وزارت خارجہ کی طرف سے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ کی تصدیق یا تردید کے لیے مزید مہلت دی جائے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل ہو چکا ہے اور اب یہ امریکی شہری پاکستان سے باہر نہیں جا سکتا۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

ریمنڈ ڈیوس کے خلاف لاہور میں ایک مظاہرے کی تصویر

ریمنڈ ڈیوس کو حاصل ممکنہ سفارتی استثنیٰ کے خلاف ایک درخواست گذار وکیل اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ ابھی تک عدالت کے سامنے ایسا کوئی بھی ریکارڈ پیش نہیں کیا جاسکا، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ڈیوس ایک امریکی سفارت کار ہیں۔ اظہر صدیق کے مطابق انہوں نے سماعت کے دوران عدالت سے یہ درخواست بھی کی کہ ریمنڈ ڈیوس کے نام کے ساتھ ان کی تصویر بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کی جائے تاکہ وہ نام بدل کر بیرون ملک فرار نہ ہو سکیں۔

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں صرف مجاز وفاقی وزراء ہی بات کریں۔ جمعرات کے روز نئی وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ عدالت میں ہے اور اس موضوع پر گفتگو میں احتیاط کی جانی چاہیے۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد ‌ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اجلاس میں ’اس معاملے کے قانونی مضمرات پر بات کی گئی اور اس بات پر سبھی متفق تھے کہ معاملہ عدالت میں ہے تو ایسا طریقہء کار اختیار کیا جائے جس سے عدالتی عمل میں معاونت ہو سکے‘۔

Raymond Davis

ریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں دہرے قتل کے واقعے سے قبل لی گئی ایک فوٹو

ادھرامریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری نے اپنے دو روزہ دورہ پاکستان کے دوران اہم سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر کے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی مطالبہ کیا تھا لیکن بظاہر وہ اس امریکی شہری کےلیے کوئی بڑا ریلیف لیے بغیر ہی بدھ کی رات امریکہ واپس روانہ ہو گئے تھے۔ اسی دوران اپوزیشن رہنما میاں نواز شریف نے سینیٹر جان کیری سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سینیٹر جان کیری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے قانونی راستہ اختیار کریں۔ نواز شریف نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے پہلے دن سے ہی اس کیس سے نمٹنے کے لیے درست حکمت عملی نہیں اپنائی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہ ہونے کے انکشاف نے اس امریکی اہلکار کی ممکنہ رہائی کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر وکیل احمر بلال صوفی کے مطابق ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنیٰ دنیا بھر میں سفارت کاروں کو ان کے فرائض کی ادائیگی کے لیے حاصل ہوتا ہے۔ احمر بلال کے مطابق کسی سنگین جرم میں ملوث کسی بھی سفارت کا ر کو حاصل یہ استثنیٰ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر غور کے لیے آج جمعرات کو پیپلز پارٹی کی ’کور کمیٹی‘ کا ایک اجلاس بھی بلا رکھا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ریمنڈ ڈیوس سے متعلق ایک روز قبل کی گئی اس پریس کانفرنس پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس