1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نابینا افراد کے لئے امید کی ایک نئی کرن

جرمن شہر ٹیوبنگن کے یونیورسٹی کلینک کے امراضِ چشم کے ڈاکٹروں نے ایک ایسی کمپیوٹر چِپ تیار کی ہے، جسے آپریشن کے ذریعے پردہء چشم کے نیچے رکھا جا سکتا ہے اور جو نابیناؤں کو دوبارہ دیکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

default

یہ طریقہ خاص طور پر اُن نابینا افراد کے لئے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے، جو پہلے کبھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور پھر پردہء بصارت کی ایک مخصوص جینیاتی بیماری Retinitis pigmentosa کا شکار ہو کر آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گئے۔ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں اِس طرح سے نابینا ہو جانے والے افراد کی تعداد تیس اور چالیس ہزار کے درمیان ہے۔

آزمائشی مرحلے میں جن نابینا افراد پر تجربات کئے گئے، وہ آنکھوں کے آپریشن کے بعد نہ صرف یہ اندازہ لگا سکتے تھے کہ روشنی کدھر سے آ رہی ہے بلکہ وہ ہلکے رنگوں کی چیزوں مثلاً پیالیوں وغیرہ کو بھی شناخت کر سکتے تھے۔ اِس آزمائشی مرحلے میں ایک نابینا شخص ایسا بھی تھا، جس نے پہلے سے نامعلوم چیزوں کو بھی شناخت کر لیا، ایک بڑی گھڑی کی سوئیاں بھی پہچان لیں اور مختلف حروف کو جوڑ کر الفاظ بھی بنا لئے۔

Gentherapie am Auge Moorfield UCL London Großbrittanien

تین ضرب تین ملی میٹر یعنی صرف 9 مربع ملی میٹر سائز کی یہ کمپیوٹر چِپ 1500 ڈائی اوڈز اور الیکٹروڈز پر مشتمل ہے، جو روشنی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ جرمن شہر روئٹلنگن کی کمپنی Retina Implant AG کے تیار کردہ اِس چِپ کا کام کسی بھی تصویر کو مخصوص برقی لہروں میں تبدیل کرنا ہے، جو پھر آگے دماغ تک بھیجی جاتی ہیں۔ یہ چِپ خاص طور پر اُن نابینا افراد کے کام آ سکتا ہے، جن کے پردہء چشم کی رگوں اور ریشوں میں بگاڑ آ جاتا ہے۔ تاہم اگر پردہء بصارت کی ساخت بہت زیادہ بگڑ جائے، وہاں خون کی گردِش رُک چکی ہو یا دیکھنے کے لئے ضروری اعصابی نظام کو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہو، تب یہ چِپ بھی مدد گار ثابت نہیں ہو سکتی۔

آزمائشی مرحلے کے دوران ڈاکٹروں نے گیارہ مریضوں کے آپریشن کئے، جنہیں آنکھوں کی روشنی سے محروم ہوئے دو سے لے کر پندرہ سال تک کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ان میں سے متعدد مریض بعد میں یہ دیکھ سکتے تھے کہ روشنی کا ذریعہ کس جانب ہے یا یہ کہ اُن کے سامنے رکھے ہلکے رنگوں کی چیزیں کون کون سی ہیں۔

Miikka نامی آخری مریض نے، جس کے آپریشن کے نتائج اِن معالجین نے ’پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی‘ میں بیان کئے ہیں، ایک کیلے کو شناخت کر لیا، گھڑی پر وقت دیکھ لیا اور حروف اور الفاظ پہچان لئے۔ کئی برسوں کی ریاضت کے بعد مرتب کئے جانے والے اِس تحقیقی جائزے کی دُنیا بھر میں زبردست پذیرائی ہو رہی ہے۔ ٹیوبنگن کے معالجین نے ابھی سے ایک دوسرے تحقیقی جائزے پر کام شروع کر دیا ہے، جس میں 25 مریضوں کے پردہء چشم کے پیچھے اِس طرح کی چِپ رکھی جائے گی۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس