1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

نابالغ تارک وطن عبيد، دوزخ سے جنت تک کيسے پہنچا؟

سال رواں کے دوران سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں کی تعداد لگ بھگ ايک ملين ہے، جن ميں تقريباً ساٹھ ہزار ايسے نابالغ لڑکے اور لڑکياں بھی شامل ہيں جو تنہا سفر کرتے ہوئے جرمنی پہنچے ہيں۔

افغان پناہ گزين عبيد کے ليے اس کے دروازے کے باہر لکھا پيغام کافی اہميت کا حامل ہے۔ اس کے دروازے کے باہر فارسی زبان ميں ’خوش آمديد‘ لکھا ہوا ہے۔ عبيد کا کہنا ہے کہ اس کے گھر ہر آنے والے شخص کو يہ محسوس ہونا چاہيے کہ اسے خوش آمديد کہا جا رہا ہے۔ پندرہ سالہ عبيد اس وقت جرمن صوبے باويريا کے شہر ہاگن ہائم ميں ’ايس او ايس چلڈرنز وليج‘ ميں مقيم ہے۔

عبيد کی پيدائش افغان دارالحکومت کابل ميں ہوئی تھی۔ تاہم اس کے والدين اس کی پرورش نہيں کر سکتے تھے اور يہی وجہ ہے کہ انہوں نے چار ماہ کی عمر ميں ہی عبيد کی پرورش کی ذمہ داری تہران ميں مقيم اپنے ايک رشتہ دار کو سونپ دی تھی۔ عبيد کا بچپن کچھ زيادہ خوشگوار نہیں تھا۔ جب وہ سات برس کا تھا، تو اس نے اپنے انکل کے ہمراہ افيون کے کھيتوں ميں کام کرنا شروع کر ديا تھا۔ پيٹ پالنے کے ليے اس نے بعد ازاں سڑکوں پر چيزيں بيچنا شروع کر ديں۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ چوئنگ گم اور جوتے بيچا کرتا تھا۔

حالات نے اسے کئی ملازمتوں پر مجبور کيا ليکن کام کے بدلے اسے پيسے کم اور ڈانٹ ڈپٹ زيادہ ملتی تھی، حتیٰ کہ کئی مرتبہ تو کام کا معاوضہ طلب کرنے پر اسے مارا بھی گیا۔ عبيد کے پاس ايران ميں قيام کے ليے درکار دستاويزات نہيں تھیں اور يہی وجہ ہے کہ کئی لوگوں نے اس کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھايا اور اس سے بلا معاوضہ کام لیا۔

عبيد اپنی بہن کی مدد کی بدولت ايران سے نقل مکانی کرنے ميں کامياب ہوا۔ اس کی بہن کو اپنی شادی کے موقع پر ايک قيمتی ہار ملا تھا، جسے فروخت کر کے اس نے اپنے بھائی کو بيرون ملک بھيجنے کا انتظام کيا۔ پناہ کے ليے يورپ تک کے سفر ميں يونان، مقدونيہ، سربيا، ہنگری اور آسٹريا ميں عبيد کی چھوٹی عمر اور ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کے اسمگلروں نے بھی اسے بڑا لوٹا۔

عبيد جرمنی ميں اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہے

عبيد جرمنی ميں اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہے

جرمنی آنے کے بعد عبيد فوری طور پر ملازمت کے ليے تيار تھا۔ اس کے ليے سب سے اہم چيز پيسہ کمانا تھا۔ تاہم اسے يہ معلوم نہ تھا کہ يہاں غير ملکيوں کو قانونی اجازت اور ہنر سیکھے بغیر کام کرنے کی اجازت نہيں ہے۔ جب عبيد کا داخلہ ’ايس او ايس چلڈرنز وليج‘ ميں ہوا، تو وہاں کے نگران نے عبيد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تين سالہ کورس رقم کمانے سے کہيں زيادہ ضروری ہے۔ نابالغوں کے اس کيمپ ميں عبيد کے نگران مارکوس ويئرل نے بتايا کہ در اصل کئی نوجوانوں پر ان کے اہل خانہ کی طرف سے رقم گھر بھجوانے کے ليے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ويئرل نے بتايا کہ وہ کہتے ہيں، ’’تم اب جنت ميں ہو۔‘‘

عبيد کارپينٹر بننے کے ليے تربيت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے سنا تھا کہ جرمنی ميں خرچے کے ليے ماہانہ دو ہزار يورو ملتے ہيں تاہم حقيقت اس سے کافی مختلف ہے۔ اسے اور اس کی عمر کے ديگر نوجوانوں کو تمام تر سہوليات کے علاوہ خرچے کے ليے ماہانہ پينتاليس يورو ديے جاتے ہيں ليکن وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہے۔ اب اس کی ایک ہی خواہش ہے۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی بہن کو بھی جرمنی بلانا چاہتا ہے۔