1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائٹ کلب میں آتشزدگی، مظاہرے: رومانیہ کے وزیر اعظم مستعفی

رومانیہ کے وزیر اعظم وکٹور پونٹا نے بدھ کے روز اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کر دیا۔ کل منگل کو بیس ہزار سے زائد مظاہرین نے بخارسٹ کے ایک نائٹ کلب میں حالیہ آتشزدگی کے بعد پونٹا کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی تھی۔

Rumänien Victor Ponta Premiminister

پونٹا کے بقول حکومت کے استعفے سے وہ لوگ مطمئن ہو جائیں گے، جو سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلے تھے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ بدھ چار نومبر کو رومانیہ کے وزیر اعظم وکٹور پونٹا نے اپنے ایک نشریاتی پیغام میں کہا، ’’میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہو رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے اس پیغام میں مزید کہا، ’’مجھے امید ہے کہ حکومت کے استعفے سے وہ لوگ مطمئن ہو جائیں گے، جو سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلے تھے۔‘‘

گزشتہ ویک اینڈ پر بخارسٹ کے ایک نائٹ کلب میں آتشزدگی کے حادثے میں ہلاک شدگان کی تعداد اب تک بتیس ہو چکی ہے۔ اس حادثے میں دو سو افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ طبی ذرائع نے کہا ہے کہ مزید ہلاکتوں کا خطرہ ابھی تک برقرار ہے۔

اس سانحے پر عوام میں غم و غصہ پیدا ہو گیا تھا، جن کا الزام تھا کہ حکومت مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہی تھی، جس کی وجہ سے اس نائٹ کلب میں یہ حادثہ رونما ہوا تھا۔

تینتالیس سالہ پونٹا کی حکومت کو اس حادثے کے بعد سخت دباؤ کا سامنا تھا۔ مظاہرین نے اس آتشزدگی پر حکومتی ردعمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ منگل تین نومبر کے روز دارالحکومت بخارسٹ میں بیس ہزار سے زائد مظاہرین نے ایک بڑی ریلی میں شرکت کرتے ہوئے پونٹا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی بدعنوانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسئلے کے نتیجے میں اس نائٹ کلب میں آگ لگی تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ پونٹا کو پہلے بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا۔ پہلے بھی رومانیہ کے عوام کرپشن کے الزامات پر پونٹا سے ناخوش تھے لیکن آتشزدگی کے اس حادثے نے ان کے جذبات کو مزید ابھار دیا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے۔

Rumänien Proteste und Forderung nach Rücktritt der Regierung

دارالحکومت بخارسٹ میں بیس ہزار سے زائد مظاہرین نے ایک بڑی ریلی میں شرکت کرتے ہوئے پونٹا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں

منگل کی رات صدر کلاؤس یوہانس نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا تھا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ (عوام) کیا مطالبہ کر رہے ہیں اور کس بات کی توقع کی جانا چاہیے۔ وہ (عوام اپنے جذبات میں) درست ہیں۔ کسی نہ کسی کو سیاسی طور پر ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔‘‘ یوہانس نے مزید لکھا کہ اب سیاستدانوں کو عمل کرنا ہو گا، کیونکہ عوامی جذبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔