1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نائن الیون: یونائیٹد ایئر لائنز کے مسافروں کی یادگار

گزشتہ ایک عشرے کے دوران یونائیٹد ایئر لائنز کی پرواز 93 پر سوار اُن مردوں اور خواتین کو بڑی حد تک بھلایا جا چکا ہے، جو گیارہ ستمبر سن 2001ء کو چوتھا حملہ ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

نائن الیون: چوتھے طیارے کی تباہی

نائن الیون: چوتھے طیارے کی تباہی

تاہم آنے والے وِیک اَینڈ پر یہ صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی کیونکہ ہفتہ دَس ستمبر کو اس پرواز کے مسافروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعمیر کی جانے والی ایک قومی یادگار کا پہلا مرحلہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

یہ یادگار ریاست پینسلوانیا میں شینکس وِل کے باہر کھلی جگہ پر عین اُس جگہ تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں گیارہ سمتبر سن 2001ء کو دن دَس بج کر تین منٹ پر بوئنگ 757 اپنے چالیس مسافروں اور عملے کے ارکان کے ساتھ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

تاحال پروگرام کے مطابق اِس یادگار کے پہلے مرحلے کی افتتاحی تقریب میں اُس وقت کے صدر جورج ڈبلیو بُش کے ساتھ ساتھ اُن کے پیش رو بل کلنٹن بھی شریک ہوں گے۔ یہ افتتاحی تقریب اُن بہت سے اجتماعات میں سے ایک ہے، جو ہولناک دہشت گردانہ واقعات کے دَس سال پورے ہونے کے موقع پر منظم کیے جا رہے ہیں۔ اِن واقعات نے امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دُنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔

یونائیڈ ایئر لائنز 93 میں پیش آنے والے واقعات پر بنائی گئی فیچر فلم کا ایک منظر

یونائیڈ ایئر لائنز 93 میں پیش آنے والے واقعات پر بنائی گئی فیچر فلم کا ایک منظر

قصبے Shanksville کی آبادی محض 245 نفوس پر مشتمل ہے۔ اِس جگہ تعمیر کی گئی یادگار 2900 سے زیادہ روشنیوں پر مشتمل ہے، جو رات کے وقت پورے علاقے کو روشن کرتے ہوئے مرنے والوں کی قربانی کی یاد دلایا کریں گی۔

اتوار گیارہ سمتبر کو شینکس وِل میں ایک یادگاری تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں موجودہ امریکی صدر باراک اوباما شرکت کریں گے اور اِس یادگار پر پھول چڑھائیں گے۔

اگرچہ شینکس وِل کے مقام پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے چالیس انسانوں کے آخری لمحات پر ہالی وُڈ میں ’یونائیٹد  93‘ کے نام سے ایک فیچر فلم اور دو ٹیلی وژن ڈرامے بھی بنائے جا چکے ہیں تاہم گزرے دَس برسوں کے دوران نائن الیون کے تذکرے کے دوران زیادہ تر ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹا گون پر ہونے والے حملے ہی توجہ کا زیادہ مرکز بنتے رہے ہیں۔

اِس پرواز کے مسافروں کو اپنے پیاروں کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگوؤں کے ذریعے نیویارک میں ہونے والے حملوں کا پتہ چل گیا تھا۔ فلائٹ کے اندر ہونے والی ریکارڈنگ سے پتہ چلا ہے کہ پرواز کے مسافر اور عملے کے ارکان اِس جہاز کو اغوا کرنے والے چار ہائی جیکرز کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

یونائیڈ ایئر لائنز 93 میں پیش آنے والے واقعات پر بنائی گئی فیچر فلم کا ایک اور منظر

یونائیڈ ایئر لائنز 93 میں پیش آنے والے واقعات پر بنائی گئی فیچر فلم کا ایک اور منظر

طیارے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اِسی کشمکش میں یہ طیارہ 906 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ زمین سے ٹکرا گیا اور تباہ ہو گیا۔ اِس مقام سے واشنگٹن تک کی فضائی مسافت محض بیس منٹ رہ گئی تھی، جہاں اِس طیارے کو امریکی کانگریس کی عمارت سے ٹکرایا جانا تھا۔

حال ہی میں طیارے کے زمین سے ٹکرانے کے تھوڑی ہی دیر بعد بنائی گئی ایک ویڈیو فلم کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ طیارے پر کسی دہشت گرد کے پاس ایک بم بھی تھا، جو فضا ہی میں پھٹ گیا تھا اور یوں طیارہ ایک شعلے کی شکل میں آ کر زمین سے ٹکرایا تھا۔

ابھی اِس یادگار کی تعمیر کے کئی اور مراحل باقی ہیں۔ سن 2014ء تک چالیس مسافروں کی یاد میں چالیس درخت لگائے جائیں گے جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ ’ٹاور آف وائسز‘ کے نام سے ایک 93 فٹ اونچا مینار بھی تعمیر کیا جائے گا۔ اس مینار میں ایسی چالیس گھنٹیاں نصب کی جائیں گی، جو ہوا کی مدد سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے بجا کریں گی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس