1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

نائن الیون اور اس کے عالمی اثرات

نائن الیون کے بعد عراق کی جنگ :عقيل ابراہيم لازم کی زندگی یکسر تبدیل

سن 2003 کی عراقی جنگ کو 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے اہم ترين نتائج ميں شمار کيا جاتا ہے۔ ايک عراقی بيان کرتا ہے کہ صدام حکومت کے خاتمے پر شروع کے جوش اور خوشی کی جگہ جلد ہی کس طرح خوف، انتشار اور تشدد نے لے لی۔

default

عقيل ابراہيم لازم

11 ستمبر سن 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے وقت عقيل ابراہيم لازم اپنی شادی کی تياريوں ميں مصروف تھا۔ بصرہ ميں يونيورسٹی سے گھر آنے والا ڈينٹل سرجن اپنی منگيتر سے شادی کی تقريب کی تفصيلات سے متعلق بات کر رہا تھا کہ اُس کی نظر ڈرائنگ روم کے کونے ميں رکھے ٹيلی وژن پر دکھائی جانے والی تصاوير پر پڑی۔ يہ ايک دور واقع ملک کی تصاوير تھيں، جسے عراق کا سرکاری ميڈيا ہميشہ ہی ايک ’دشمن ملک‘ قرار ديتا تھا اور جسے ابراہيم لازم نے کبھی نہيں ديکھا تھا۔ ٹيلی وژن پر امريکہ ميں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی يہ تصاوير انتہائی ہولناک تھيں: جلتے ہوئے جڑواں ٹاور، مرتے ہوئے انسان، وحشت ناک ليکن ساتھ ہی عجيب انداز میں غير حقيقی معلوم ہونے والے مناظر۔ يہ کوئی وحشيانہ، سنسنی خيز ايکشن فلم نہيں تھی جو پچھلے کچھ عرصے سے صدام حسين کے رياستی کنٹرول والے ٹيلی وژن پر بھی دکھائی جانے لگی تھی بلکہ يہ حقيقت تھی۔

Irak 9/11 Flash-Galerie

عراقی عوام عراق کی جنگ سے ناخوش مگر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے سے خوش تھے


ميں نے سوچا، يہ تو بہت بھيانک ہے

جو کچھ میں اُن لمحات میں محسوس کر رہا تھا، اُسے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے، دس سال بعد یہ کہنا ہے لازم کا۔ میرے وہ احساسات سکتے، حیرانی اور دُکھ کی ملی جُلی کیفیت تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ انسانی تہذیب کی مکمل تباہی ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں نے نہ صرف لازم کی شادی کی تقریب کو درہم برہم کر دیا بلکہ اُس کے ملک کو ایک اور جنگ کے دہانےپر بھی لا کھڑا کیا اور یہ جنگ عراقی آمر صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنی۔ 35 سالہ لازم نے تب ان سب کا تصور بھی اُن لمحات میں نہیں کیا تھا۔ اُسے بہت شدید غصہ تھا، ساتھ ہی بے یقینی بھی۔ ان حملوں کا نشانہ عام شہری بنے۔ جب انسان دوسروں کے دکھ میں شریک ہوتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ متاثرین کس نسل یا قومیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ عراقی باشندہ لازم ماضی کے ان واقعات کو یاد کرتا جاتا اور ہلکے ہلکے بیان کرتا جاتا ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے وہ متاثرین کے لیے بہت زیادہ دکھی ہو رہا تھا۔ تاہم دکھ کا یہ احساس بڑا غیر معمولی تھا کیونکہ اس واقعے کا ذمہ دار مسلمان دہشت گردوں کو ٹھہرایا گیا۔

آیا حکومتوں کو اُس شام اس امر کا اندازہ ہو گیا تھا کہ القاعدہ کی اس دہشت گردی کے اثرات عراق پر کیسے مرتب ہوں گے، لازم نے 12 ستمبر کی شب بغداد میں حکمرانوں کی اس بارے میں پریشانی کو بھانپ لیا تھا۔ اُسے اچھی طرح یاد ہے کہ راتوں رات عراق کی سڑکوں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور حکمران بعث پارٹی کے مسلح اراکین نظر آنے لگے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جسیے کہیں عراق خود کسی دہشت گردانہ حملے کا شکار نہ ہو جائے۔

لازم کی شادی کی تقریب کے موقع پر اس موضوع کے علاوہ کوئی اور موضوع زیر بحث ہی نہیں تھا۔ وہ کہتا ہے، ’مجھے مبارک باد کے کلمات سے زیادہ خبریں سننے کو مل رہی تھیں‘۔

Irak 9/11 Flash-Galerie

عقيل ابراہيم لازم اپنی ڈینٹل کلینک میں

لازم بصرہ یونیورسٹی میں دانتوں کے ایک ماہر ڈاکٹر کی حیثیت سے ایک لکچرار کی پوسٹ پر کام کرتا ہے۔ اس کا ایک ذاتی ڈینٹل کلینک بھی ہے۔ اُس وقت حکومت کی طرف سے پہلی بار صدام حسین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں شہریوں کو زور زبردستی شرکت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ دیگر شیعہ عراقیوں کی طرح لازم بھی صدام حسین کی سُنی حکومت کا بڑا سخت ناقد تھا۔

ایک قریبی جنگ کے آثار

جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ نائن الیون کے اثرات کے طور پر عراق کو ایک نئی جنگ کے خطرات کا سامنا ہے۔ امریکی حکومت نے صدام حسین پر یہ الزام عائد کیا کہ اُس کے پاس وسیع پیمانے پر انسانی تباہی کا باعث بننے والے ہتھیار موجود ہیں۔ بغداد حکومت کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ گہرے روابط کے بارے میں بھی باتیں کی جا رہی تھیں۔ یہ دونوں باتیں ہی بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔ لازم اب تک اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کی وہ تقریر نہیں بھولا جس میں صدر بُش نے دنیا کے تمام حکمرانوں سے کہا تھا، ’یا تو آپ سب ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف‘۔

ہماری حکومت امریکہ کو ازلی دشمن سمجھتی تھی، کیونکہ اُس نے بغداد کو عراق کی طرف سے کویت پر فوجی قبضے کا جواب ایک جنگ کے ساتھ دیا تھا۔

ڈیڑھ سال بعد 19 مارچ 2003ء کو عراقی جنگ شروع ہوگئی۔ لازم کو اب بھی وہ بٹے ہوئے احساسات یاد ہیں۔ وہ کہتا ہے، ’میرے حلقہ احباب میں بہت سے عراقی باشندوں نے ہمسایہ ملک کویت پر عراقی قبضے کو سختی سے رد کر دیا تھا۔ دوسری جانب ہم سب صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کی دعا بھی کر رہے تھے۔ ٹھیک 22 روز بعد یہ بھی ہو گیا اور عراقی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صدام حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی لازم اور بہت سے عراقیوں کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی۔ بعد میں لازم نے اپنا ایک ڈینٹل کلینک بھی قائم کر لیا۔

رپورٹ: مناف السعیدی / کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس