نائن الیون: متاثرہ خاندانوں کا سعودی عرب کے خلاف مقدمہ خارج | حالات حاضرہ | DW | 30.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائن الیون: متاثرہ خاندانوں کا سعودی عرب کے خلاف مقدمہ خارج

امریکا پر نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں ایک امریکی عدالت نے ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کا وہ مقدمہ خارج کر دیا ہے، جس میں سعودی عرب پر القاعدہ کو مادی امداد کی فراہمی کا الزام لگایا گیا تھا۔

نیو یارک سے بدھ تیس ستمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں سعودی ریاست پر دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کو مادی امداد فراہم کرنے کے الزام کی سماعت نیو یارک کے علاقے مین ہیٹن کی ایک ڈسٹرکٹ کورٹ نے کی۔

اس عدالت کے جج جارج ڈینئلز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سعودی ریاست کو اس مقدمے کے تحت دائر کیے جانے والے مالی ازالے کے دعووں کے خلاف امریکا کے ایک وفاقی قانون کے تحت مامونیت حاصل ہے۔ یہ مقدمہ نائن الیون حملوں میں مارے جانے والے قریب تین ہزار افراد کے لواحقین کے ساتھ ساتھ ان انشورنس کمپنیوں نے بھی دائر کیا تھا، جنہوں نے ان حملوں کے نتیجے میں مختلف عمارتوں یا کاروباری اداروں کے مالکان کو انہیں پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے رقوم ادا کی تھیں۔

مین ہیٹن ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج ڈینئلز نے اپنے فیصلے میں لکھا، ’’اس قانونی درخواست کے دائر کنندگان نے اپنی طرف سے جو شکایت کی ہے، وہ اس عدالت کو اس بارے میں کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتی کہ عدالت فریق بنائی گئی دوسری پارٹی (سعودی عرب) کے خلاف اپنا قانونی دائرہ کار استعمال میں لا سکے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق اس مقدمے میں درخواست دہندگان نے اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے لیےسعودی ریاست کے خلاف چند نئے الزامات کا سہارا بھی لیا تھا۔ لیکن یہ الزامات مثال کے طور پر ذکریا موسوی نامی اس مجرم کے بیانات کی روشنی میں لگائے گئے تھے، جو القاعدہ کا ایک سابق کارکن ہے اور اس وقت امریکا میں انہی دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں اپنے کردار کی وجہ سے جیل میں قید کاٹ رہا ہے۔

اس مقدمے میں درخواست دہندگان کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ مین ہیٹن کی اس عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ انہی وکلاء میں سے ایک شین کارٹر نے کہا، ’’منگل انتیس ستمبر کے روز سنایا جانے والا مین ہیٹن کی عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں اس لیے نہ ہو سکا کہ امریکی حکومت نے ان بہت سے شواہد کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا، جو ہمارے لیے مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔‘‘ شین کارٹر نے کہا، ’’ظاہر ہے کہ ہم عدالت کے لیے احترام کے ساتھ لیکن اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف اس مقدمے میں سعودی عرب کے ایک وکیل نے عدالتی فیصلے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ عدالتی فیصلہ نائن الیون کے ان دہشت گردانہ حملوں کے 14 سال بعد سنایا گیا ہے، جن میں القاعدہ کے بہت سے دہشت گردوں نے ہائی جیک کیے گئے مسافر طیاروں کے ساتھ امریکا میں کئی مقامات پر ہلاکت خیز حملے کیے تھے۔

ان 19 حملہ آوروں میں سے اکثریت کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ انہوں نے ہائی جیک کیے گئے اور مسافروں سے بھرے ہوائی جہازوں کو نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور واشنگٹن کے قریب پینٹاگون پر حملوں کے لیے استعمال کیا تھا جبکہ ریاست پینسلوانیا میں ایک مسافر طیارہ اس وقت زمین پر گر کر تباہ ہو گیا تھا جب مسافروں نے ہائی جیکروں کے خلاف مزاحمت شروع کر دی تھی۔

DW.COM