1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نائن الیون: امریکہ میں دہشت گردی کا اثر ہزاروں میل دور پشاور پر

جب پشاور کے عوام نائن الیون کے واقعے میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور کی بلند و بالا عمارات کے زمین بوس ہونے کے مناظر اپنی ٹی وی اسکرین پر دیکھ رہے تھے، تو انہوں نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ اس سے ان کا اپنا شہر کتنا متاثر ہونے والا ہے۔

default

گیارہ ستمبر سن 2001ء کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں اگر پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کو دیکھا جائے، تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کس طرح ایک واقعے نے اس شہر کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا۔

یہ شہر، جو افغانستان سے زیادہ دور نہیں ہے، دس برس پہلے ایک طرف تو پشتون ثقافتی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا اور دوسری جانب یہاں کاروباری سرگرمیاں لاکھوں افراد کے معیار زندگی کی ضمانت بھی تھیں۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن شہر ہونے کی وجہ سے وق کے ساتھ ساتھ پشاور القاعدہ، طالبان اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایک آسان ہدف بن چکا ہے۔

Anschlag in Peschawar Pakistan

پشاور میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے

پشاور میں بڑے کاروباری حضرات اور کمپنیاں تو رہیں ایک طرف، عام تاجر بھی اس ساری صورتحال سے انتہائی متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ہربل ادویات کی دکان کے مالک شیخ احمد پشاور کے ایک رہائشی ہیں۔ کچھ روز قبل ایک بم دھماکے میں ان کی چھوٹی وین متاثر ہوئی تھی۔ خراب کاروباری صورتحال کی وجہ سے انہیں یہ وین مرمت کر کے اس لیے فروخت کرنا پڑی تاکہ وہ اپنی دکان کی ضرویات پوری کر سکیں۔ شیخ احمد اب ایک مسلسل خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں، ’میں ہر روز صبح اپنی دکان کی طرف آتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ ممکن ہے شام کو میری جگہ میرا تابوت میرے گھر پہنچے۔‘‘

شیخ احمد کا کہنا ہے، ’جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تھا، تو میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اس کی وجہ سے میرا کاروبار اور میرا شہر اتنا متاثر ہو گا۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ پولیس ہر بم دھماکے کے بعد آتی ہے، ہماری نام لکھے جاتے ہیں، ہم سے معاوضے کا وعدہ کیا جاتا ہے، مگر ہوتا کچھ نہیں۔‘‘

نائن الیون کے بعد پشاور میں مسلسل دہشت گردانہ واقعات کی وجہ سے اس شہر کا مستقبل ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور کم از کم مستقبل قریب میں اس صورتحال میں کسی نمایاں مثبت تبدیلی کے آثار بھی دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ:  عاطف توقیر

ادارت:  امجد علی

DW.COM