1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا 38 افراد کی ہلاکت کے بعد مذہبی فسادات، پوپ کی مذمت

نائجیریا کے ایک وسطی شہر جوس میں کرسمس سے ایک روز قبل ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں اور چرچوں پر حملوں میں کُل 38 افراد کی ہلاکت کے بعد آج اتوار کو وہاں مذہبی فسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

default

عینی شاہدین کے مطابق متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی جبکہ کئی لوگوں کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ مسلح مسلم اور مسیحی افراد کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد پولیس اور فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

دوسری طرف ایک حکومتی ترجمان کےمطابق صورتحال کا جائزہ لینے اور کشیدگی میں کمی کی کوشش کے لیے نائجیریا کے نائب صدر Namai Sambo آج جوس پہنچ رہے ہیں۔

Papst Segen Urbi et Orbi 2010

پاپائے روم نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے

جوس نائجیریا کے مسلم اکثریت والے شمالی علاقے اور مسیحی اکثریتی جنوبی علاقے کے درمیان واقع ہے، اسی وجہ سے یہ اکثر مذہبی اور علاقائی چپقلش کا شکار بنتا رہتا ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں کے مطابق رواں برس کے دوران جوس میں ہونے والے فسادات اور دہشت گردانہ واقعات میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ نائجیریا میں اگلے برس اپریل میں عام انتخابات منعقد ہونا ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان انتخابات سے قبل جوس اور دیگر علاقوں میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدھم نے کرسمس کے موقع پر نائیجریا اور فلپائن میں مسیحیوں پر حملوں اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پوپ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کرسمس کی تقریبات کے دوران فلپائن میں ایک کیھتولک چرچ پر حملہ اور نائجیریا میں مسیحیوں کی ہلاکت کی خبریں انتہائی افسوسناک ہیں۔

ویٹی سٹی میں اپنے خطاب کے دوران پوپ نے کہا کہ ہم دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھ رہے ہیں کہ دنیا ایک مرتبہ پھر خون سے داغدار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اس دہشت گردی کا شکار بننے والے افراد کے اہلخانہ کے ساتھ اپنی دلی ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔

نائجیریا کے وسطی شہر جوس میں جمعہ کی شام اس وقت یکے بعد دیگرے سات بم دھماکے ہوئے جب لوگ کرسمس کے سلسلے میں اپنی شاپنگ میں مصروف تھے۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ اُسی شب مشتبہ افراد کی جانب سے تین گرجا گھروں پر حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

دوسری طرف فلپائن کے جزیرے جولومیں کرسمس کے دن ایک چرچ میں جاری دعائیہ تقریب کے دوران ایک بم پھٹنے سے پادری سمیت چھ افراد زخمی ہوئے۔ جولو کو مسلم اکثریت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM