1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا کے وسطی علاقے میں فسادات پھر پھوٹ پڑے

افریقی ملک نائجیریا کے وسطی شہر جوس میں مشتبہ مذہبی فسادات ایک مرتبہ چھڑ گئے ہیں۔ سیکنڑوں ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ قائم مقام صدرجوناتھن گڈلک نے فوج کو سیکیورٹی کے لئے خصوصی احکامات جاری کئے ہیں۔

default

تاہم خبررساں ادارے AFP نے نامعلوم حکومتی اہلکار کے حوالے سے کم از کم 100 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے، جن میں سے بیشتر بچے اور خواتین ہیں۔

نائجیریا کے قائم مقام صدر گڈلک جوناتھن نے ملک کے وسطی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔انہوں نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔ جوس میں پہلے سے ہی فوج بھی موجود ہے، جس نے متاثرہ گاؤں میں فوجی بھیج دیے ہیں۔

Nigeria Jonathan Goodluck

نائجیریا کے قائم مقام صدر جوناتھن گڈلک

عینی شاہدین کے مطابق پلاٹو کے ریاستی دارالحکومت جوس کے جنوبی گاؤں ڈوگو نہاوا کی گلیوں میں متعدد نعشیں بکھری پڑی ہیں۔ خبررساں اداروں نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس گاؤں پر حملہ اتوار کو صبح سویرے ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی، جس کا مقصد لوگوں کو گھروں سے نکالنا تھا۔ بعدازاں انہوں نے آبادی پر چھریوں اور خنجروں سے حملہ کیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق لوگوں کو جلایا بھی گیا ہے۔

جوس شمال میں مسلم اکثریتی اور جنوب میں مسیحی اکثریتی علاقوں کے درمیان واقع ہے۔ وہاں رواں برس جنوری میں بھی ایسے ہی فسادات ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں تقریباﹰ 450 افراد ہلاک ہوئے۔ اس وقت پلاٹو کے مسلم اور مسیحی رہنماؤں نے فسادات کی نوعیت مذہبی کے بجائے نسلی بتائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صورت حال سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نسلی اختلافات کے خاتمے میں ناکامی کے باعث پیدا ہوئی۔ریڈ کراس کے مطابق تقریبا 18 ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑ کر فوجی بیرکوں، گرجاگھروں اور مسجدوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے جبکہ اس مرتبہ بھی متاثرہ علاقے سے انخلاء جاری ہے۔ جوس میں 2008ء میں بھی نسلی اور مذہبی فسادات کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

وہاں کی مسیحی اور مسلم آبادی میں سیاسی اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ مسیحی حکمراں جماعت PDP کی حمایت کرتے ہیں جبکہ مسلمان اپوزیشن ANPP کے حامی ہیں۔

رپورٹ : ندیم گل / خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM