1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نائجیریا کے قائم مقام صدر گُڈلَک نے کابینہ تحلیل کر دی

نائجیریا کے قائم مقام صدر گُڈ لَک جوناتھن کی طرف سے بدھ کو کابینہ تحلیل کردینے کے بعد اب اس افریقی ملک میں پھر سے سیاسی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔جوناتھن نے ابھی ایک ماہ قبل ہی ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

default

نائجیریا کے قائم مقام صدر گُڈ لَک جوناتھن

Präsident Nigeria Umaru Yar'Adua

بیمار صدر عمارو یار آدوا

گزشتہ ماہ نائجیریا کے پارلیمان نے اکثریتی ووٹ کے ذریعے 58 سالہ بیمار صدر عمارو یار آدوا کو مجبور کیا کہ وہ پوری طرح سے صحت یاب ہونے تک اقتدار سے دور رہیں۔ یار آدوا کا مسلسل تین ماہ تک سعودی عرب میں علاج چل رہا تھا۔ دل کے شدید عارضے میں مبتلا سیاسی رہنما عمارو یار آدوا نے اپنے نائب گُڈلَک جوناتھن کو اقتدار منتقل نہیں کیا تھا، جس کے باعث ملک میں سیاسی خلا پیدا ہوگیا تھا۔ صدر عمارو یار آدوا کی ملک واپسی کے بعد 53 سالہ گُڈ لَک جوناتھن پارلیمانی ووٹ سے ملک کے قائم مقام صدر نامزد ہوئے۔ جوناتھن نے نو فروری سے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھالا۔

قائم مقام صدر نے محض ایک مہینے کے اندر ہی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بیالیس ارکان پر مشتمل وفاقی کابینہ تحلیل کر دی۔ اس فیصلے کی نہ توکوئی وضاحت کی گئی اور نہ ہی نئی کابینہ تشکیل دی گئی۔

ملک کی وزیر اطلاعات ڈورا آکون یلی نے بدھ کی کابینہ میٹنگ کے بعد صحافیوں کو قائم مقام صدر کے فیصلے سے آگاہ کیا۔’’وفاقی جمہوریہ نائجیریا کے قائم مقام صدر گُڈلَک جوناتھن نے وفاقی ایگزیکٹیو یعنی کابینہ تحلیل کردی ہے۔‘‘ وزیر اطلاعات نے مزید بتایا:’’صدر نے ہمیں اپنے فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، اس لئے میں بھی اس فیصلے کی وضاحت نہیں کر سکتی۔‘‘

نائجیریا کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں اور مبصرین کے خیال میں قائم مقام صدر جوناتھن اب جلد ہی نئی کابینہ تشکیل دیں گے، لیکن اس میں اکثریت اُن کے وفاداروں کی ہوگی نہ کہ علیل رہنما عمارو یار آدوا کے حامیوں کی۔ بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحلیل کردہ کابینہ میں شامل کچھ وزراء نئی کابینہ کا بھی حصہ ہوں گے۔

نائجیریا کی الیکٹورل ایجنسی نے منگل کو یہ اعلان کیا تھا کہ ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات آئندہ سال کے آغاز پر ہی منعقد ہوں گے۔ اس اعلان کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ مبصرین کے مطابق قائم مقام صدر گُڈ لَک جوناتھن نے آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کابینہ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی پسند کی کابینہ تشکیل دینے کے بعد وہ اپنا اثرو رسوخ قائم کر سکیں۔’دی نیوز میگزین‘ کے مدیر اور

Nigeria Massaka März 2010

نائجیریا کے علاقے جوس میں حال ہی میں فسادات ہوئے

تجزیہ نگار بایو اونانوگا نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا، ’’اس فیصلے سے جوناتھن اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مؤثر طریقے سے حکومت کر سکیں۔ قائم مقام صدر صحیح معنوں میں اختیارات کے متمنی ہیں۔‘‘

آبادی کے لحاظ سے افریقہ کے سب سے بڑے ملک نائجیریا کے شمال میں ابھی حال ہی میں مذہبی فسادات کے نتیجے میں سینکڑوں افراد مارے گئے۔ نائجیریا کے جوس نامی شہر کے جنوب میں مسیحیوں کی اکثریت ہے جبکہ شمال میں مسلمانوں کی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شہر میں مسلم مسیحی فسادات میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM